خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 870
$2004 870 خطبات مسرور اس کو جائز نہیں رکھتا اور رہبانیت اسلام کا منشاء نہیں۔اسلام تو انسان کو چست، ہوشیار اور مستعد بنانا چاہتا ہے،اس لئے میں تو کہتا ہوں کہ تم اپنے کاروبار و جد و جہد سے کرو۔حدیث میں آیا ہے کہ جس کے پاس زمین ہو وہ اس کا تردد نہ کرے تو اس سے مواخذہ ہوگا۔پس اگر کوئی اس سے یہ مراد لے کہ دنیا کے کاروبار سے الگ ہو جاوے وہ غلطی کرتا ہے۔نہیں، اصل بات یہ ہے کہ سب کا روبار جو تم کرتے ہواس میں دیکھ لو کہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو اور اس کے ارادے سے باہر نکل کر اپنی اغراض اور جذبات کو مقدم نہ کرنا۔(الحکم مورخہ 10 راگست 1901ء صفحہ 2) آپ نے بڑی وضاحت سے فرمایا کہ تمہارا اصل مقصد خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہونا چاہئے کیونکہ فطرت صحیحہ یہی ہے جو انسان کی فطرت جس پر وہ پیدا کیا گیا ہے وہ یہی ہے کہ انسان اپنے پیدا کرنے والے کی طرف جھکے۔لیکن اگر اس کی عبادت نہیں کرتے ، اس کے آگے نہیں جھکتے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی پابند نہیں کہ مشکلات میں یا تکلیف میں ضرور ان کی مدد کو آئے اور ان پر اپنا فضل فرمائے جو اس کی عبادت نہیں کرتے۔پس اگر اس کا فضل حاصل کرنا ہے تو اس کی عبادت بھی کرنی ہو گی۔فرمایا تمہارے دنیاوی کام کاج ہیں، ان کو بھی کرو ، ملازمتیں بھی کرو، کاروبار بھی کروزمیندار ہو تو زمینداری بھی کرو۔لیکن تمہارا مقصد بہر حال اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اس کی عبادت میں ہے۔عام دنیاوی معاملات میں بھی جب انسان کسی چیز کا مالک ہو تو اسے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنا چاہتا ہے۔ملازم بھی رکھتا ہے تو اس کو یہی حکم ہوتا ہے کہ تم نے میرے بتائے ہوئے طریق پر کام کرنا ہے اور کسی دوسرے کی بات نہیں مانی تو اللہ تعالیٰ جو رب بھی ہے، مالک بھی ہے ، معبود بھی ہے، اس کی بات ماننے سے ہمیں کیونکر اعتراض پیدا ہوتا ہے۔اس بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی کچھ وضاحت کی ہے۔یہ ان لوگوں کا اعتراض جو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لئے بنایا ہے اس لئے وہ چاہتا ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں ، اس کی یہ خواہش ہے اس میں اس اعتراض کا بھی جواب دیا ہے۔