خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 872
خطبات مسرور 872 کی صفات کو اپنے اندر پیدا کر سکے ورنہ اللہ تعالیٰ تمام شکلوں میں پاک ہے۔$2004 پس عبادت پر زور دینے کے محض یہ معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے وجود کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو کیونکہ کامل تصویر بھی کھینچی جا سکتی ہے جب اس وجود کا نقشہ ذہن میں موجود ہو جس کی تصویر لینی ہو اور عبادت اللہ تعالیٰ کی صفات کو سامنے رکھنے اور ان کا نقش اپنے ذہن پر جمانے کا ہی نام ہے جس میں انسان کا فائدہ ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کا“۔پھر فرماتے ہیں کہ اس مضمون کی طرف ایک حدیث میں بھی اشارہ ہے جس میں بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ اما الإِحْسَان ؟ کامل عبادت کیا ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ ان تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهِ۔تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے کہ گو یا معنوی طور پر وہ اپنی تمام صفات کے ساتھ تیرے سامنے کھڑا ہو جائے۔(تفسیر کبیر جلد نمبر 3 صفحه (143) | پھر جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے، کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نواز نے کے لئے ہی عبادت کا حکم دیتا ہے اور ان کے فائدے کے لئے ہی دیتا ہے۔اس بارے میں اس مضمون کو ایک اور جگہ بیان فرماتا ہے کہ آمنْ يُجِيْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ - عالمٌ مَّعَ اللهِ - قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ﴾ (سورة النمل آیت : 63 یا پھر وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا کو قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارے۔اور تکلیف دور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کے وارث بناتا ہے۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔تو جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر آیا ہوں ایسے لوگ عبادت کے خلاف ہوتے ہیں یا بلا وجہ کا اعتراض اٹھا رہے ہوتے ہیں ان کو بھی تکلیف کے وقت دُعا یاد آ جاتی ہے۔وہ ان لوگوں کی طرح ہیں جن کے بارے میں ذکر آتا ہے کہ جب ان کو طوفان گھیر لیتا ہے تو رونا پیٹنا دعائیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اور جب وہ طوفان ٹل جاتا ہے اور خشکی پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر منکر ہو جاتے ہیں۔تو فرمایا