خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 823
$2004 823 خطبات مسرور بڑے بڑے گنا ہوں سے بچنے کی وجہ سے اور اس سوچ کی وجہ سے کہ میں نے گزشتہ جمعہ میں یہ عہد کیا تھا کہ آئندہ فلاں فلاں برائی نہیں کرنی اور اس وجہ سے خدا سے معافی کا طلبگار ہوا تھا تو پھر یقیناوہ انسان برائی سے بچنے کی کوشش بھی کرتا رہے گا۔کیونکہ یہ احساس رہے گا کہ میں بھی گزشتہ جمعہ میں خدا سے فلاں برائی کو چھوڑنے اور فلاں چیز کے حصول کا طلبگار ہوا تھا۔اگر میں نے دوبارہ یہی برائی کی تو کس منہ سے اگلے جمعہ اس کے سامنے حاضر ہوں گا۔تو اس طرح یہ کفارہ بن جاتا ہے۔اگلا جمعہ گواہی دیتا ہے کہ یہ بڑے گنا ہوں سے بچتا رہا۔اور اگر سال کے بعد ہی جمعہ پڑھنا ہے تو سال کے بعد تو انسان ویسے بھی بھول جاتا ہے بہت ساری باتیں، بہت سارے وعدے، بہت سارے عہد کئے ہوئے ہیں یا نہیں کئے ہوئے۔پھر فرمایا کہ رمضان کفارہ بن جاتا ہے۔اگر نمازوں اور جمعوں کی ادا ئیگی ہو رہی ہوگی اور نیکیاں قائم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے تو ظاہر ہے رمضان نے بھی اس کا کفارہ بنا ہے۔تو کفارے کا مطلب یہ ہے کہ یہ نماز میں یہ جمعے یہ رمضان اس بات کی گواہی کے لئے کھڑے ہو جائیں گے کہ بعض چھوٹی چھوٹی غلطیاں جو اس شخص سے ہوئی ہیں یا بعض بیوقوفیوں کی وجہ سے جو غلطیاں ہوئی ہیں یہ عبادتیں کہیں گی کہ اے اللہ تیرے خوف کی وجہ سے اور تجھ سے محبت کی وجہ سے یہ انسان یہ مومن بندہ تیرے حضور پانچ وقت حاضر ہوتا رہا، تیرے سے ان برائیوں کی معافی بھی مانگتا رہا ہے اور بڑے گناہوں سے بھی بچتا رہا ہے۔جمعہ کہے گا کہ ان سات دنوں میں اس شخص نے بڑے بڑے گناہوں اور برائیوں سے بچنے کی کوشش کی اور محفوظ رہا لیکن بعض چھوٹی غلطیاں ہو بھی گئی ہیں تو معاف کر دے۔یہ بہر حال اپنا عہد نبھانے کی کوشش کرتا رہا ہے رمضان کہے گا کہ جو رمضان کا حق تھا اس طرح اس مومن بندے نے روزے بھی رکھے اور آئندہ رمضان کے انتظار میں بھی رہا اور عموماً برائیوں سے بچتا رہا چھوٹی موٹی غلطیاں کو تا ہیاں اگر ہوگئی ہیں تو اس کو معاف کر دے۔تو جب یہ عبادتیں جو ہیں یہ اس مومن بندے کا اس طرح ساتھ دے رہی ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہورہی ہوں گی تو ان عبادتوں کی وجہ سے بشرطیکہ وہ نیک نیتی سے کی گئی ہوں ، دکھاوے کے لئے نہ ہوں کیونکہ دکھاوے کی عبادتیں منہ پہ ماری جاتی ہیں تو نیک نیتی سے کی