خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 824 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 824

824 $2004 خطبات مسرور گئیں عبادتیں اس کو نیکیوں میں اور بڑھاتی چلی جائیں گی اور وہ نیکیوں کے اعلیٰ معیار قائم دور ہو کرتا چلا جائے گا۔اور ایک وقت آئے گا کہ جب چھوٹی چھوٹی برائیاں بھی جائیں گی۔تو یہ ہے عبادتوں کا کفارہ ادا کرنے کا مطلب۔پھر جمعہ کے دن قبولیت دعا کے بارے میں ایک روایت اس طرح آتی ہے۔پھر ایک روایت ہے ابو جعد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے متواتر تین جمعے جان بوجھ کر چھوڑ دیئے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر کر دیتا ہے۔(ترمذی كتاب الجمعة باب ما جاء في ترك الجمعة تو جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ کوئی روایت نہیں ملتی جس سے جمعتہ الوداع کا پتہ لگتا ہو کہ اس کی کوئی خاص اہمیت ہے اس دن پڑھ لو تو بس سب کچھ معاف ہو گیا۔لیکن ہر جمعہ کی اہمیت کا روایت میں بہر حال ذکر ہے۔اب اس روایت میں بھی یہی فرمایا کہ جان بوجھ کر جمعہ چھوڑنے والے کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔اور جن کے دلوں پر مہر لگ جائے وہ دین سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ جب خدا کو بھی بھول جاتے ہیں۔بڑا سخت انذار ہے۔ہراحمدی کو اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے۔اب جو لوگ سال کے بعد جمعہ پڑھتے ہیں یا عید پڑھتے ہیں ان کو یا درکھنا چاہئے کہ جمعہ بھی ایک طرح کی عید ہی ہے۔پہلی حدیث سے واضح ہو گیا تین جمعے سے زیادہ چھوڑو تو پھر داغ لگ جاتا ہے۔پھر جو عید کو اہمیت دیتے ہیں جمعے کو اہمیت نہیں دیتے اس بارے میں آنحضرت مہ نے ایک جمعے کے خطبے کے دوران ہی فرمایا کہ اے مسلمانو! اس دن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے عید بنایا ہے۔اس روز نہایا کرو اور مسواک ضرور کیا کرو۔(المعجم الصغير للطبراني - باب الحاء من اسمه الحسن) یعنی اس روز نہا دھو کر صاف ستھرے ہو کے اچھے کپڑے پہن کے جس طرح عید کی خوشی مناتے ہیں اس طرح خوشی مناؤ۔اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے ایک جگہ اکٹھے ہو۔تو بعض لوگ میں نے دیکھا ہے شائد اس وجہ سے جمعہ والے دن اپنی توفیق کے مطابق خاص طور پر کھانا بھی بڑے