خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 822 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 822

$2004 822 خطبات مسرور حیثیت نہیں۔کہیں قرآن وحدیث سے اس کا پتہ نہیں لگتا۔یہ سب بعد کی اختر ائیں ہیں، بعد کی باتیں ہیں جو بعض مفاد پرست علماء یا نام نہاد فقہاء نے اپنے مطلب حاصل کرنے کے لئے بنالی ہیں۔پھر اس کے ذریعہ سے عوام الناس کو بھی گمراہ کیا جاتا ہے تو جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ شیطان بھی خاص طور پر اس دن کے حملے زیادہ زور دار طریقے سے کرتا ہے اور زیادہ منصوبے بنا کے کرتا ہے۔اس لئے اس کو یہ تکلیف ہے اور تھی کہ آج کے دن آدم کو پیدا کیا گیا ہے؟ میرے مقابلے پر لایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے نیچے دکھایا ہے کم تر حیثیت میری ہو گئی ہے تو اصل میں تو شیطان کی لڑائی اللہ تعالیٰ سے تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اس لئے بندوں کو اپنے قابو میں کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے اور اس کے لئے اس کو چھٹی بھی ملی ہوئی ہے کہ ٹھیک ہے کرو جو تمہارے قابو میں آئیں گے وہ جہنم میں جائیں گے۔جو نیکیوں پر قائم رہیں گے وہ جنت میں جائیں گے۔وہ تو اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ رحمن کے بندے کم سے کم دنیا میں ہوں لیکن آج احمدی کا یہ کام ہے کہ جمعہ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہمیشہ جمعہ کی حاضری کو لازمی اور یقینی بنائیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور آنحضرت ﷺ پر درود کی وجہ سے رحمان کے بندے بننے کی کوشش کریں۔اور جب رحمان کے بندے بننے کی کوشش کر رہے ہوں گے تو صرف جمعوں کی حاضری کی فکر ہی نہیں ہوگی ہمیں، بلکہ پھر نمازوں کی حاضری کی بھی فکر ہو گی۔اور مسجدوں کی آبادی کی بھی فکر ہوگی۔اپنی غلطیوں ، کمزوریوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے کی بھی فکر ہوگی۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔حضرت ابو ہریرہ سے ایک روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ پانچ نمازیں، جمعہ اگلے جمعہ تک، اور رمضان اگلے رمضان تک ان کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔جب تک کہ وہ بڑے بڑے گناہوں سے بچتا رہے۔(صحیح مسلم - كتاب الطهارة تو یہاں بات بالکل کھول دی کہ پانچ نمازیں کفارہ بنتی ہیں یعنی جب انسان کو ایک نماز کے بعد دوسری نماز کی فکر رہے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش بھی کرتا رہے اور پھر نمازیں بھی ادا کرے پھر ایک جمعہ اگلے جمعہ تک کا کفارہ بنتا ہے۔ان سات دنوں میں نماز کی ادائیگی کی وجہ سے اور