خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 411 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 411

$2004 411 خطبات من مسرور پھر ایک روایت میں ہے حضرت مسروق بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس ہم آئے۔آپ نے فرمایا اے لوگو! اگر کسی کو علم کی بات معلوم ہو تو بتا دینی چاہئے۔اور جسے علم کی کوئی بات معلوم نہ ہو تو سوال ہونے پر وہ جواب دے کہ اللهُ أَعْلَمْ یعنی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔( کیونکہ یہ بھی علم کی بات ہے۔کہ انسان جس بات کو نہیں جانتا اس کے متعلق کہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے ( یہ اسی کا حصہ ہے ) اے رسول ! تو کہ میں اس کا کوئی بدلہ نہیں مانگتا اور نہ ہی میں تکلف سے کام لینے والا ہوں۔(بخاری کتاب التفسير - تفسير سورة ص باب قوله وما انا من المتكلفين اس روایت میں جو پہلا حصہ ہے، اس میں اساتذہ کے لئے یہ سبق ہے کہ سکولوں میں ٹیوشن پر زیادہ توجہ ہے اور پڑھانے کی طرف کم۔دوسرے یہ کہ بعض دفعہ تیاری کے بغیر پڑھانے چلے جاتے ہیں اور اگر کوئی نئی چیز پڑھانی پڑ جائے تو پھر ان کو کافی دقت کا سامنا ہورہا ہوتا ہے اور جو کچھ غلط سلط آتا ہے پڑھا دیتے ہیں۔اور اس طرح پھر طلبا کی بھی ایک طرح کی غلط قسم کی رہنمائی ہو جاتی ہے۔فرمایا کہ یہی بہتر طریقہ ہے کہ اگر علم نہیں تو کہہ دو کہ مجھے علم نہیں ہے۔آج میری تیاری نہیں ہے میں نہیں پڑھا سکتا۔علم سکھانے والے کے لئے بھی ایمانداری کا تقاضا یہ ہے کہ صرف اپنی انا کی خاطر نہ بیٹھ جائے بلکہ اگر علم نہیں ہے تو بتا دے کہ علم نہیں ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم حاصل کرو علم حاصل کرنے کے لئے وقار اور سکینت کو اپناؤ۔اور جس سے علم سیکھو اس کی تعظیم تکریم اور ادب سے پیش آؤ۔(الترغيب والترهيب جلد نمبر ۱ صفحه ۷۸ باب اف ، في اكرام العلماء واجلا لهم وتوقيرهم بحواله الطبراني في الاوسط) تو اس میں طلبہ کے لئے نصیحت ہے کہ اپنے استاد کی عزت کرو، ایک وقار ہونا چاہئے۔آج کل مختلف ممالک میں طلبہ کی ہڑتالیں ہوتی ہیں توڑ پھوڑ ہوتی ہے،مطالبے منوانے کے لئے گلیوں میں نکل آتے ہیں، مطالبہ یونیورسٹی یا کالج کا ہوتا ہے اور توڑ پھوڑ سڑکوں پر سٹریٹ لائٹس کی یا