خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 410
$2004 410 مسرور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کے بارے میں مختلف پیرائے میں جو ہمیں فرمایا وہ احادیث پیش کرتا ہوں ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ علم حاصل کرے۔اب مسلمانوں میں جو علم حاصل کرنے کی نسبت ہے وہ دوسروں کے مقابلے میں بہت تھوڑی ہے۔اور حکم ہمیں سب سے زیادہ ہے۔پھر ایک روایت میں ہے، ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا صدقہ یہ ہے کہ ایک مسلمان علم حاصل کرے پھر اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے۔( سنن ابن ماجه المقدمه باب ثواب معلم الناس الخير تو یہ علم حاصل کرنے کی اہمیت ہے۔اور پھر اس کو سکھانے کی کہ یہ ایک صدقہ ہے اور صدقہ بھی ایسا ہے جو صدقہ جاریہ ہے کہ دوسروں کو علم سکھاؤ تو تمہاری طرف سے ایک جاری صدقہ شروع ہو جاتا ہے اسی لئے اساتذہ کی عزت کا بھی اتنا حکم ہے کہ اگر ایک لفظ بھی کسی سے سیکھو تو اس کی عزت کرو۔اساتذہ کا بڑا معزز پیشہ ہے۔لیکن پاکستان وغیرہ میں اس کو بھی صرف آمدنی کا ذریعہ بنالیا گیا ہے اور یہ پیشہ بھی بدنام ہو رہا ہے۔ٹھیک ہے جائز طور پر ایک ملازم یہ پیشہ اختیار کرتا ہے اس کو تنخواہ ملتی ہے، کمانا چاہئے یا پھر ٹیوشن بھی لی جا سکتی ہے لیکن وہاں آج کل ہوتا یہ ہے کہ سکولوں میں پڑھانے کی طرف توجہ نہیں دیتے ، اور طالب علم کو کہہ دیا کہ تم میرے گھر آنا اور ٹیوشن پڑھو اور پھر ٹیوشن بھی اتنی لیتے ہیں کہ جو بعضوں کی پہنچ سے باہر ہوتی ہے۔امیر آدمی سے تو چلو لے لی لیکن بیچارے غریبوں کو بھی نہیں بخشتے اور اگر ٹیوشن نہ پڑھیں تو امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں وہ پہلے ہی کہہ دیتے ہیں کہ اگر امتحان میں پاس ہونا ہے تو ٹیوشن پڑھو اور پھر بیچارے بعض لوگ (ایسے طالب علم یا ان کے والدین ) اسی ٹیوشن کی وجہ سے مقروض ہو جاتے ہیں احمدی اساتذہ کو اس سے پر ہیز کرنا چاہئے اپنا ایک نمونہ دکھانا چاہئے اور جو علم اور فیض انہوں نے حاصل کیا ہے اس کو دوسروں تک پہنچانے میں کنجوسی اور بخل سے کام نہیں لینا چاہئے۔