خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 412
$2004 412 خطبات مسرور حکومت کی پراپرٹی کی یا عوام کی جائیدادوں کی ہو رہی ہوتی ہے، دکانوں کو آ گیس لگ رہی ہوتی ہیں۔تو یہ انتہائی غلط اور گھٹیا قسم کے طریقے ہیں۔اسلام کی تعلیم تو یہ نہیں ہے، طالبعلم علم حاصل کرتا ہے اس کے اندر تو ایک وقار پیدا ہونا چاہئے۔اور ادب اور احترام پیدا ہونا چاہئے اساتذہ کے لئے بھی ، اپنے بڑوں کے لئے بھی ، نہ کہ بدتمیزی کا رویہ اپنایا جائے۔پھر بعض دفعہ ہمارے احمدی اسا تذہ کو سامنا کرنا پڑتا ہے یہ تو خیر میں ضمنا ذکر کر رہا ہوں کہ غیر احمدی طلبہ نے خود پڑھائی نہیں کی ہوتی فیل ہو جاتے ہیں اگر ان کا احمدی ٹیچر ہے یا احمدی استاد ہے تو فوراً اس کے خلاف وہاں ہڑتالیں شروع ہو جاتی ہیں۔اس لحاظ سے بھی پاکستان میں بعض اساتذہ بڑی مشکل میں ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بھی ایسے طلباء کو معقل دے اور احمدی طلباء کو بھی چاہئے کہ ایسی سٹرائکس (Strikes) میں جو یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ہوتی ہیں۔کبھی حصہ نہ لیں اور اپنے وقار کا خیال رکھیں۔احمدی طالب علم کی اپنی ایک انفرادیت ہونی چاہئے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکل کر مسجد میں تشریف لائے اور دیکھا کہ مسجد میں دو حلقے بنے ہوئے ہیں۔کچھ لوگ تلاوت قرآن کریم اور دعائیں کر رہے ہیں اور کچھ لوگ پڑھنے پڑھانے میں مشغول ہیں۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں گروہ نیک کام میں مصروف ہیں۔یہ قرآن پڑھ رہا ہے اور دعائیں مانگ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں دے اور چاہے تو نہ دے۔یعنی ان کی دعائیں قبول کرے یا نہ کرے اور دوسرا گروہ پڑھنے پڑھانے میں مشغول ہے۔فرمایا: خدا تعالیٰ نے مجھے معلم اور استاد بنا کر بھیجا ہے اس لئے آپ پڑھنے پڑھانے والوں میں جا کے بیٹھ گئے۔(سنن ابن ماجه كتاب المقدمه فضل العلماء والحث على طلب العلم ) تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنے والوں کو یہ مقام دیا ہے۔لیکن یہاں یہ بھی واضح ہو کہ جو پڑھنے پڑھانے والے تھے وہ بھی تقویٰ پر قائم رہنے والے تھے اور ایمان لانے والوں