خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 409 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 409

$2004 409 خطبات مسرور لگا رہتا ہے۔اور وہ کبھی بھی اپنے آپ کو علم کی تحصیل سے مستغنی نہیں سمجھتا۔اس کی موٹی مثال ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات میں ملتی ہے، آپ کو پچپن ، چھپتین سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ الہام فرماتا ہے کہ قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے ساتھ ہمارا سلوک ایسا ہی ہے جیسے ماں کا اپنے بچے کے ساتھ ہوتا ہے۔اس لئے بڑی عمر میں جہاں دوسرے لوگ بریکار ہو جاتے ہیں اور زائد علوم اور معارف حاصل کرنے کی خواہش ان کے دلوں سے مٹ جاتی ہے اور ان کو یہ کہنے کی عادت ہو جاتی ہے کہ ایسا ہوا ہی کرتا ہے، تجھے ہماری ہدایت یہ ہے کہ ہمیشہ خدا تعالیٰ سے دعا کرتارہ کہ خدایا میر اعلم اور بڑھا، میر اعلم اور بڑھا۔پس مومن اپنی زندگی کے کسی مرحلے میں بھی علم سیکھنے سے غافل نہیں ہوتا۔بلکہ اس میں وہ ایک لذت اور سرور محسوس کرتا ہے اس کے مقابل میں جب انسان پر ایسا دور آجاتا ہے جب وہ سمجھتا ہے میں نے جو کچھ سیکھنا تھا سیکھ لیا ہے اگر میں کسی امر کے متعلق سوال کروں گا تو لوگ کہیں گے کیسا جاہل ہے اسے ابھی تک فلاں بات کا بھی پتہ نہیں تو وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتا ہے۔دیکھ لو حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑی عمر کے آدمی تھے مگر پھر بھی کہتے ہیں رَبِّ اَرِنِي كَيْفَ تُحْي الموتى۔۔۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ ابراہیم ! تو تو پچاس ساٹھ سال کا ہو چکا ہے اور اب یہ بچوں کی سی باتیں چھوڑ دے۔بلکہ اس نے بتایا کہ ارواح کس طرح زندہ ہوا کرتی ہیں۔پس ہر عمر میں علم سیکھنے کی تڑپ اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے رہنا چاہئے کہ الہی میراعلم بڑھا۔کیونکہ جب تک انسانی قلب میں علوم حاصل کرنے کی ہر وقت پیاس نہ ہواس وقت تک وہ کبھی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔(تفسیر کبیر جلد نمبر ٥ صفحه ٤٦٩ ، ٤٧٠) بعض لوگ کہتے ہیں حافظہ بڑی عمر میں کمزور ہو جاتا ہے۔مجھے یاد ہے ہمارے ایک استاد ہوتے تھے، انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد قرآن کریم حفظ کیا اور ربوہ میں سائیکل کے ہینڈل پر قرآن کریم رکھا ہوتا تھا اور چلتے ہوئے پڑھتے رہتے تھے۔لیکن آج کل ربوہ میں رکشے اتنے ہو گئے ہیں اب اس طرح نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پھر بزرگ ہسپتال پہنچے ہوں گے۔