خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 408
$2004 408 خطبات مسرور دکھا دیئے ہیں۔ان پر چل کر ہم دینی علم میں اور قرآن کے علم میں ترقی کر سکتے ہیں اور پھر اسی قرآنی علم سے دنیاوی علم اور تحقیق کے بھی راستے کھل جاتے ہیں۔اس لئے جماعت کے اندر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھنے کا شوق اور اس سے فائدہ اٹھانے کا شوق نو جوانوں میں بھی اپنی دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہونا چاہئے۔بلکہ جو تحقیق کرنے والے ہیں، بہت سارے طالب علم مختلف موضوعات پر ریسرچ کر رہے ہوتے ہیں، وہ جب اپنے دنیاوی علم کو اس دینی علم اور قرآن کریم کے علم کے ساتھ ملا ئیں گے تو نئے راستے بھی متعین ہوں گے، ان کو مختلف نہج پر کام کرنے کے مواقع بھی میسر آئیں گے جو اُن کے دنیا دار پروفیسران کو شاید نہ سکھا سکیں۔اسی طرح جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ بڑی عمر کے لوگوں کو بھی یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ عمر بڑی ہوگئی اب ہم علم حاصل نہیں کر سکتے۔ان کو بھی اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھیں اس بارے میں پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں یہ سوچ کر نہ بیٹھ جائیں کہ اب ہمیں کس طرح علم حاصل ہو سکتا ہے۔اب ہم کس طرح اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے تو لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا جو سکھائی گئی ، جب یہ آیت اتری آپ کی عمر پچپن، چھپن سال تھی۔تو کہتے ہیں کہ یہ اس لئے ہے کہ مومنوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے کہ ہمارے لئے بھی ہے۔کسی بھی عمر میں علم حاصل کرنے سے غافل نہیں ہونا چاہئے اور مایوس نہیں ہونا چاہئے پھر اس کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ: دنیا میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بچپن سیکھنے کا زمانہ ہوتا ہے، جوانی عمل کا زمانہ ہوتا ہے اور بڑھا پا عقل کا زمانہ ہوتا ہے۔لیکن قرآن کریم کی رو سے ایک حقیقی مومن ان ساری چیزوں کو اپنے اندر جمع کر لیتا ہے۔اس کا بڑھاپا اسے قوت عمل، اور علم کی تحصیل سے محروم نہیں کرتا۔اس کی جوانی اس کی سوچ کو نا کارہ نہیں کر دیتی بلکہ جس طرح بچپن میں جب وہ ذرا بھی بولنے کے قابل ہوتا ہے ہر بات کو سن کر اس پر فوراً جرح شروع کر دیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ فلاں بات کیوں ہے اور کس لئے ہے اور اس میں علم سیکھنے کی خواہش انتہا درجہ کی موجود ہوتی ہے۔اسی طرح اس کا بڑھاپا بھی علوم سیکھنے میں