خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 197 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 197

$2004 197 مسرور تو یہ حکم الہی بھی ہے اور سنت بھی ہے اور اس حکم کی وجہ سے جماعت میں بھی شورای کا نظام جاری ہے۔لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ مشورہ تو لے لولیکن اس مشورے کے بعد تمام آراء آنے کے بعد جو فیصلہ کر لو تو ہوسکتا ہے کہ بعض دفعہ یہ فیصلہ ان مشوروں سے الٹ بھی ہو۔تو فرمایا جو فیصلہ کر لو پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرو کیونکہ جب تمام چھان پھٹک کے بعد ایک فیصلہ کر لیا ہے پھر معاملہ خدا تعالیٰ پر ہی چھوڑنا بہتر ہے۔اور جب اے نبی ! تو نے معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ خود اپنے نبی کی بات کی لاج رکھے گا۔اور انشاء اللہ اس کے بہتر نتائج ظاہر ہوں گے۔جس طرح تاریخ میں ہے کہ جنگ بدر کے موقعے پر قیدیوں سے سلوک کے بارے میں اکثریت کی رائے رد کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حضرت ابو بکر کی رائے مانی تھی ، پھر بعض دفعہ دوسری جنگوں کے معاملات میں صحابہ کے مشورہ کو بہت اہمیت دی جنگ احد میں ہی صحابہ کے مشورے سے آپ وہاں گئے تھے ورنہ آپ پسند نہ کرتے تھے۔آپ کا تو یہ خیال تھا کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے اور جب اس مشورہ کے بعد آپ کہتھیار بند ہوکر نکلے تو صحابہ کو خیال آیا کہ آپ کی مرضی کے خلاف فیصلہ ہوا ہے، عرض کی یہیں رہ کر مقابلہ کرتے ہیں۔تب آپ نے فرمایا کہ نہیں نبی جب ایک فیصلہ کر لے تو اس سے پھر پیچھے نہیں ہٹتا، اب اللہ تعالیٰ پر توکل کرو اور چلو۔پھر یہ بھی صورت حال ہوئی کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر تمام صحابہ کی متفقہ رائے تھی کہ معاہدہ پر دستخط نہ کئے جائیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کی رائے کے خلاف اس پر دستخط فرما دیئے۔اور پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ نے اس کے کیسے شاندار نتائج پیدا فرمائے۔تو مشورہ لینے کا حکم تو ہے تا کہ معاملہ پوری طرح نظھر کر سامنے آ جائے لیکن ضروری نہیں ہے کہ مشورہ مانا بھی جائے تو آپ کی سنت کی پیروی میں ہی ہمارا نظام شوری بھی قائم ہے، خلفاء مشورہ لیتے ہیں تا کہ گہرائی میں جا کر معاملات کو دیکھا جا سکے لیکن ضروری نہیں ہے کہ شوری کے تمام فیصلوں کو قبول بھی کیا جائے اس لئے ہمیشہ یہی