خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 196
$2004 196 خطبات مسرور ایک مقدس ادارے کا اسے ممبر بنایا جاتا ہے کیونکہ نظام خلافت کے بعد دوسرا اہم اور مقدس ادارہ جماعت میں شورای کا ادارہ ہی ہے۔اور جب خلیفہ وقت اس لئے بلا رہا ہو اور احباب جماعت بھی لوگوں کو اپنے میں سے منتخب کر کے اس لئے بھیج رہے ہوں کہ جاؤ اللہ تعالیٰ کی تعلیم دنیا میں پھیلانے ، احباب جماعت کی تربیت اور دوسرے مسائل حل کرنے اور خدمت انسانیت کرنے کے لئے خلیفہ وقت نے مشوروں کے لئے بلایا ہے اس کو مشورے دو تو کس قدرذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔اگر یہ تصور لے کر مجلس شورای میں بیٹھیں تو پوری طرح مجلس کی کارروائی سننے اور استغفار کرنے اور درود بھیجنے کے علاوہ کوئی دوسرا خیال ذہن میں آہی نہیں سکتا تا کہ جب بھی اس مجلس میں رائے دینے کے لئے کھڑا کیا جائے تو صحیح اور مکمل ذمہ داری کے ساتھ رائے دے سکیں کیونکہ یہ آراء خلیفہ وقت کے پاس پہنچنی ہیں اور خلیفہ وقت یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ ممبران نے بڑے غور سے سوچ سمجھ کر کسی معاملے میں رائے قائم کی ہوگی اور عموماً مجلس شوری کی رائے کو اس وجہ سے من وعن قبول کر لیا جاتا ہے، اسی صورت میں قبول کر لیا جاتا ہے۔سوائے بعض ایسے معاملات کے جہاں خلیفہ وقت کو معین علم ہو کہ شوری کا یہ فیصلہ ماننے پر جماعت کو نقصان ہو سکتا ہے اور یہ بات ایسی نہیں ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے یا اس سے ہٹ کر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہوئی ہے۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ۔فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى الله (سورة ال عمران آیت ۱۶۰) یعنی اور ہراہم معاملے میں ان سے مشورہ کر ( نبی کو یہ لم ہے ) پس جب کوئی تو فیصلہ کر لے تو پھر اللہ پر توکل کر۔یعنی یہاں یہ تو ہے کہ اہم معاملات میں مشورہ ضروری ہے، ضرور کرنا چاہئے اور اس حکم کے تابع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مشورہ کیا کرتے تھے بلکہ اس حد تک مشورہ کیا کرتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو اپنے اصحاب سے مشورہ کرتے نہیں دیکھا۔