خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 198
$2004 198 خطبات مسرور ہوتا ہے کہ شورای کی کارروائی کے آخر پر معاملات زیر غور کے بارے میں جب رپورٹ پیش کی جاتی ہے تو اس پر یہ لکھا ہوتا ہے کہ شورای یہ سفارش کرتی ہے، یہ لکھنے کا حق نہیں ہے کہ شورای یہ فیصلہ کرتی ہے۔شوریٰ کو صرف سفارش کا حق ہے۔فیصلہ کرنے کا حق صرف خلیفہ وقت کو ہے۔اس پر کسی کے ذہن میں یہ بھی سوال اٹھ سکتا ہے کہ پھر شوری بلانے کا یا مشورہ لینے کا فائدہ کیا ہے، آج کل کے پڑھے لکھے ذہنوں میں یہ بھی آجاتا ہے تو جیسا کہ میں پہلے بھی کہ آیا ہوں کہ مجلس مشاورت ایک مشورہ دینے والا ادارہ ہے۔اس کا کردار پارلیمنٹ کا نہیں ہے جہاں فیصلے کئے جاتے ہیں۔آخری فیصلے کے لئے بہر حال معاملہ خلیفہ وقت کے پاس آتا ہے اور خلیفہ وقت کو ہی اختیار ہے کہ فیصلہ کرے، اور یہ اختیار اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے۔لیکن بہر حال عموماً مشورے مانے بھی جاتے ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا سوائے خاص حالات کے، جن کا علم خلیفہ وقت کو ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ بعض حالات میں بعض وجوہات جن کی وجہ سے وہ مشورہ رد کیا گیا ہوان کو خلیفہ وقت بتانا نہ چاہتا ہوا یسی بعض مجبوریاں ہوتی ہیں۔تو بہر حال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مشورہ لینے کا فائدہ ہوتا ہے۔کیونکہ مختلف ماحول کے مختلف قوموں کے، مختلف معاشرتی حالات کے لوگ، زیادہ اور کم پڑھے لکھے لوگ مشورہ دے رہے ہوتے ہیں پھر آج کل جب جماعت پھیل گئی ہے، مختلف ملکوں کے لحاظ سے ان کے حالات کے مطابق مشورے پہنچ رہے ہوتے ہیں تو خلیفہ وقت کو ان ملکوں میں عمومی حالات اور جماعت کے معیار زندگی اور جماعت کے دینی روحانی معیار اور ان کی سوچوں کے بارے میں علم ہو جاتا ہے ان مشوروں کی وجہ سے۔اور پھر جو بھی سکیم یا لائحہ عمل بنانا ہو اس کو بنانے میں مدد ملتی ہے۔غرض کہ اگر ملکوں کی شورای کے بعض مشورے ان کی اصلی حالت میں نہ بھی مانے جائیں تب بھی خلیفہ وقت کو دیکھنے اور سننے سے بہر حال ان کو فائدہ ہوتا ہے۔مشورہ دینے والے کا بہر حال یہ فرض بنتا ہے کہ نیک نیتی سے مشورہ دے اور خلیفہ وقت کا یہ حق بھی ہے اور فرض بھی ہے کہ وہ جماعت سے مشورہ