خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 140
140 $2004 خطبات مسرور سے عفو کا سلوک کرو گے معاف کرنے کی عادت ڈالو گے، اس لئے کہ معاشرے میں فتنہ نہ پھیلے، اس لئے کہ تمہارے اس سلوک سے شاید جس کو تم معاف کر رہے ہو اس کی اصلاح ہو جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگوں سے میں محبت کرتا ہوں۔آج کل کے معاشرے میں جہاں ہر طرف نفسانفسی کا عالم ہے یہ خلق تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اور بھی پسندیدہ ٹھہرے گا اور آج اگر یہ اعلیٰ اخلاق کوئی دکھا سکتا ہے تو احمدی ہی ہے۔جنہوں نے ان احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لئے زمانے کے امام کے ہاتھ پر تجدید بیعت کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے عفو کے مضمون کی اہمیت کے پیش نظر مختلف جگہوں پر قرآن کریم میں اس بارے میں احکامات دیئے ہیں، مختلف معاملات کے بارے میں مختلف سورتوں میں۔میں ایک دو اور مثالیں پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ دوسری جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاعْرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ ﴾ (سورۃ الاعراف ۲۰۰) یعنی عفو اختیار کر ، معروف کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کر۔یہاں فرمایا معاف کرنے کا خُلق اختیار کرو اور اچھی باتوں کا حکم دو اگر کسی سے زیادتی کی بات دیکھو تو درگزر کرو۔فوراً غصہ چڑھا کر لڑنے بھڑنے پر تیار نہ ہو جایا کرو اور ساتھ یہ بھی کہ جو زیادتی کرنے والا ہے اس کو بھی آرام سے سمجھاؤ کہ دیکھو تم نے ابھی جو باتیں کی ہیں مناسب نہیں ہیں اور اگر وہ باز نہ آئے تو وہ جاہل شخص ہے، تمہارے لئے یہی مناسب ہے کہ پھر ایک طرف ہو جاؤ چھوڑ دواس جگہ کو اور اس کو بھی اس کے حال پر چھوڑ دو۔دیکھیں کہ یہ کتنا پیارا حکم ہے اگر کسی طرح عفوا ختیار کیا جائے تو سوال ہی نہیں ہے کہ معاشرے میں کوئی فتنہ و فساد کی صورت پیدا ہو۔لیکن یہاں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح تو پھر فتنہ پیدا کرنے والے اور فساد کرنے والوں کو کھلی چھٹی مل جائے گی ، وہ شرفاء کا جینا حرام کر دیں گے۔اور شریف آدمی پرے ہٹ جائے گا۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ فساد کرنے والے معاشرے میں