خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 139

$2004 139 خطبات مسرور ہو رہا ہوتا ہے کہ اللہ کی پناہ۔اور اس معاشرے کی بے صبری اور معاف نہ کرنے کا اثر غیر محسوس طریق پر بچوں پر بھی ہوتا ہے، گزشتہ دنوں کسی کالم نویس نے ایک کالم میں لکھا تھا کہ ایک باپ نے یعنی اس کے دوست نے اپنے ہتھیار صرف اس لئے بیچ دیئے کہ محلے میں بچوں کی لڑائی میں اس کا دس گیارہ سال کا بچہ اپنے ہم عمر سے لڑائی کر رہا تھا کچھ لوگوں نے بیچ بچاؤ کروا دیا۔اس کے بعد وہ بچہ گھر آیا اور اپنے باپ کا ریوالور یا کوئی ہتھیار لے کے اپنے دوسرے ہم عمر کو قتل کرنے کے لئے باہر نکلا۔اس نے لکھا ہے کہ شکر ہے پستول نہیں چلا ، جان بچ گئی۔لیکن یہ ماحول اور لوگوں کے رویے معاشرے پر اثر انداز ہورہے ہیں۔اور معاشرے کی یہ کیفیت ہے اس وقت کہ بالکل برداشت نہیں معاف کرنے کی بالکل عادت نہیں، اور یہ واقعہ جو میں نے بیان کیا ہے پاکستان کا ہے لیکن یہاں یورپ میں بھی ایسے ملتے جلتے بہت سے واقعات ہیں جن کی مثالیں ملتی ہیں۔بعض دفعہ اخباروں میں آجاتا ہے۔تو جب اس قسم کے حالات ہوں تو سوچیں کہ ایک احمدی کی ذمہ داری کس حد تک بڑھ جاتی ہے۔اپنے آپ کو، اپنی نسلوں کو اس بگڑتے ہوئے معاشرے سے بچانے کے لئے بہت کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔اور ہمارے لئے کس قدرضروری ہو جاتا ہے کہ ہم قرآنی تعلیم پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کریں۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو آسائش میں خرچ کرتے ہیں اور تنگی میں بھی ، اور غصہ دبا جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔اس میں احسان کرنے والوں کے بارے میں یہ بتایا ہے کہ جب تم یہ نہیں دیکھو گے کہ تمہاری ضروریات پوری ہوتی ہیں کہ نہیں تمہیں مالی کشائش ہے یا نہیں اور ہر حال میں اپنے بھائیوں کا خیال رکھو گے تو نیکی کرنے کی روح پیدا ہوگی اور پھر فرمایا کہ ایک بہت بڑا خلق تمہارا غصے کو دبانا ہے۔اور لوگوں سے عفو کا سلوک کرنا ہے اور ان سے درگزر کرنا ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم لوگوں