خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 141 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 141

$2004 141 خطبات مسرور رہیں اور فساد بھی کرتے رہیں، ان کی اصلاح بھی تو ہونی چاہئے اگر تمہارا معاف کرنا ان کو راس نہیں آتا تو پھر ان کی اصلاح کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو بھی چھوڑ انہیں ہے دوسری جگہ حکم فرمایا ہے۔کہ وَجَزَاؤُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا۔فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ۔إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ (سورۃ الشوریٰ آیت (۱۴) بدی کا بدلہ اتنی ہی بدی ہوتی ہے اور جو معاف کرے اور اصلاح کو مد نظر رکھے اس کا بدلہ دینا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوتا ہے اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔اب ہر کوئی تو بدی کا بدلہ نہیں لے سکتا کیونکہ اگر یہ دیکھے کہ فلاں شخص کی اصلاح نہیں ہو رہی باز نہیں آرہا تو خود ہی اگر اس کی اصلاح کی کوشش کی جاے گی تو پھر تو اور فتنہ و فساد معاشرے میں پیدا ہو جائے گا۔یہ تو قانون کو ہاتھ میں لینے والی باتیں ہو جائیں گی۔اس کی وجہ سے ہر طرف لاقانونیت پھیل جائے گی۔اس کے لئے بہر حال ملکی قانون کا سہارا لینا ہوگا، قانون پھر خود ہی ایسے لوگوں سے نبٹ لیتا ہے۔اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ عام طور پر ایسے، اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے والے ، لڑائی کرنے والے، فتنہ وفساد پیدا کرنے والے، لاقانونیت پھیلانے والے جب قانون کی گرفت میں آتے ہیں تو پھر صلح کی طرف رجوع کرتے ہیں، سفارشیں آ رہی ہوتی ہیں کہ ہمارے سے صلح کر لو تو فرمایا کہ اصل میں تو تمہارے مد نظر اصلاح ہے اگر سمجھتے ہو کہ معاف کرنے سے اس کی اصلاح ہو سکتی ہے تو معاف کر دو لیکن اگر یہ خیال ہو کہ معاف کرنے سے اس کی اصلاح نہیں ہوسکتی یہ تو پہلے بھی یہی حرکتیں کرتا چلا جارہا ہے اور پہلے بھی کئی دفعہ معاف کیا جا چکا ہے لیکن اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ، نا قابل اصلاح شخص ہے تو پھر بہر حال ایسے شخص کو سزاملنی چاہئے۔اور اس کے مطابق جماعتی نظام میں بھی تعزیر کا، سزا کا طریق رائج ہے، جب اللہ تعالیٰ کے احکامات کو توڑو گے، جب دوسروں کے حقوق غصب کرو گے جب بھائی کی زمین یا جائیداد پر قبضہ کرنے کی کوشش کرو گے، جب بیوی پر ظلم کرو گے تو نظام کی طرف سے تو سزا ملے گی۔جس کو سزا ملی ہو وہ درخواستیں لکھنا شروع کر دیتے ہیں