خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 787
$2004 787 خطبات مسرور کے بے شمار حکم ہیں۔تو جب یہ چیزیں ہوں گی تبھی ایمان کی حالت ہوگی اور تبھی اللہ تعالیٰ کا خوف بھی دل میں ہوگا۔یا اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے یہ سب کام ہورہے ہوں گے۔تو عبادتوں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے اور اپنا محاسبہ کرنے، صبح شام یہ جائزہ لینے کہ میں نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا ہے یا نہیں ، اور تقویٰ سے رات بسر کی ہے یا نہیں ، جس طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔جب ایسی حالت ہوگی تو فرمایا کہ ایسے لوگوں کے روزے بھی قبول ہوں گے اور لیلتہ القدر کی برکتیں بھی حاصل ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ لوگ ہیں جو اجر عظیم حاصل کرنے والے ہیں۔پھر ہر مومن کی خواہش ہوتی ہے کہ پستہ لگے کہ لیلۃ القدر کی راتیں ہیں کون سی؟ کون سی وہ راتیں ہیں جب ہم اللہ تعالیٰ کے اس انعام سے حصہ پاسکتے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے۔ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔(بخاری کتاب فضل ليلة القدر باب تحرى ليلة القدر في الوتر من العشر الاواخر) یعنی تئیسویں، پچیسویں ستائیسویں وغیرہ راتوں میں تلاش کرو۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے متعد دصحابہ کرام کو رویا میں رمضان کی آخری سات راتوں میں لیلتہ القدر دکھائی گئی۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔میں دیکھتا ہوں تمہاری خوابوں میں رمضان کی آخری سات راتوں میں لیلۃ القدر کے ہونے میں موافقت پائی جاتی ہے۔یعنی ان سب میں تقریباً یہی بات نظر آ رہی ہے پس تم میں سے جو بھی اس کو تلاش کرنا چاہے وہ اسے رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کرے“۔(بخارى كتاب فضل ليلة القدر ـ باب فضل ليلة القدر ) تو بہر حال آخری عشرہ یا سات راتیں مختلف روایتوں میں آیا ہے۔پھر ایک روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک بار میں نے