خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 788 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 788

788 $2004 خطبات مسرور عرض کی۔اے اللہ کے نبی اگر مجھے لیلۃ القدر میسر آ جائے تو میں کیا دعا مانگوں۔آپ نے فرمایا لیلتہ القدر نصیب ہونے پر یہ دعا کرنا کہ اللّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي۔یعنی اے اللہ تو بہت زیادہ درگزر کرنے والا ہے اور درگز کو پسند کرتا ہے۔پس مجھ سے درگز رفرما۔“ (مسند احمد بن حنبل باقی مسند الانصار ) تو یہ دعا آنحضرت ﷺ نے سکھائی ہے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اور دعا ئیں نہیں کرنی چاہئیں۔وہ بھی کریں لیکن اگر اس حدیث کو اوپر جو میں نے پہلے حدیث بیان کی ہے اس کے ساتھ ملائیں تو مزید بات کھلتی ہے کہ ایمان اور محاسبہ کرتے ہوئے لیلۃ القدر ملے تو گناہ بخشے گئے۔اب جب ایک مومن اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتا ہے کہ اے خدا! اس سارے رمضان میں اپنے گناہوں اور زیادتیوں کا میں جائزہ لیتا رہا ہوں اور اب میں عہد کرتا ہوں کہ آئندہ کوشش کروں گا کہ یہ غلطیاں اور زیادتیاں مجھ سے نہ ہوں۔تو معاف کرنے والا ہے۔تو درگز رکو، معاف کرنے کو بخشش کو پسند کرتا ہے، میرے گناہ بخش اور میری زیادتیوں سے درگزر فرما۔تو جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ استغفار اور گنا ہوں سے معافی جو ہے تو بہ قبول ہونے میں مددگار ہوتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے انسان پھر ایسا نیکیوں پر قائم ہونے کی کوشش کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں کی مددفرماتا ہے۔تو وہ لوگ جو اس طرح دعا مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادتوں کے معیار بھی قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔تبھی تو عفو اور درگزر کا واسطہ دے کے اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کی نیک نیتی سے مانگی ہوئی دعاؤں کو اپنے وعدوں کے مطابق قبول بھی کرتا ہے۔اسے نیکیوں میں بڑھاتا بھی ہے۔تو یہ ساری چیزیں جو عفو، درگزر ہے یا معاف کرنا ہے، استغفار ہے، یہ کوئی چھوٹی دعا نہیں ہے، بہت بڑی دعا ہے۔اگر آدمی اپنا پورا محاسبہ کرتے ہوئے مانگے تو ، بہت ساری برائیوں کو چھوڑے گا تو اللہ کے پاس بھی جائے گا تاکہ بخشش کے سامان پیدا۔