خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 786
$2004 786 مسرور انشاء اللہ۔ہمیں بھی چاہئے کہ اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ان دنوں میں اپنی عبادتوں کو مزید سجائیں اور ان کو ترقی دیں۔استغفار اور عبادات کی طرف توجہ کریں تا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں۔اس آخری عشرے میں جو لیلۃ القدر آتی ہے اس کو پانے والے ہوں اور یہ عہد کریں کہ جن عبادتوں کی عادت ان دنوں میں ہمیں پڑ گئی ہے اس کو ہم ہمیشہ قائم رکھنے والے ہوں گے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ " جس شخص نے ایمان کی حالت میں اور محاسبہ نفس کرتے ہوئے رمضان کے روزے رکھے اس کو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس شخص نے ایمان کی حالت میں اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے لیلۃ القدر کی رات قیام کیا اس کو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔“ (بخارى كتاب فضل ليلة القدر ـ باب فضل ليلة القدر ) اب یہاں دیکھیں روزے رکھنا ، اور لیلۃ القدر کی رات کا قیام یعنی لیلۃ القدر والی رات میں عبادت۔ان دونوں کے ساتھ شرط ہے کہ ایک تو ایمان کی حالت میں ہو اور مومن ہوا اور اپنا محاسبہ کرتے ہوئے ہو۔مومن وہ ہے جو ایمان کی تمام شرائط پوری کرتا ہے۔صرف زبان کا اقرار نہیں ہے۔اب شرائط کیا ہیں؟۔قرآن کریم میں متعدد شرائط کا ذکر ہے۔سب سے بڑی بات اللہ پر ایمان ہے۔مومن تو وہی ہے جو اللہ پر ایمان لائے۔اس کی مثال دے دیتے ہیں۔یہی فرمایا کہ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ۔(الانفال: 3) یعنی مومن تو صرف وہی ہیں جن کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جائیں۔تو جس کے دل میں اللہ کا خوف ہوگا وہ کبھی دوسرے کا حق مارنے کا سوچے گا بھی نہیں۔وہ کبھی معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کا سوچے گا بھی نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اپنے معاشرے میں ہر ایک سے بنا کے سنوار کے رکھو۔ہمسایہ سے حسن سلوک کرو، اپنے وعدے پورے کرو، دوسروں کے لئے قربانی دو، اور اس طرح