خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 132
$2004 132 خطبات مسرور سے جماعت پر مختلف وقتوں میں آتے رہتے ہیں۔ان میں بھی ہر احمدی کو ثابت قدم رہنے کی دعا کرتے رہنا چاہئے۔ہمیشہ صبر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی مد مانگنی چاہئے ، پاکستان میں تو یہ حالات تقریباً جب سے پاکستان بنا ہے احمدیوں کے ساتھ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ احمدیوں نے صبر اور حو صلے سے ان کو برداشت کیا ہے۔اور کبھی اپنے ملک سے وفا میں کمی نہیں آنے دی، یا اس وجہ سے ایک قدم بھی وفا میں پیچھے نہیں ہٹے۔اور جب بھی ملک کو ضرورت پڑی۔سب سے پہلے احمدیوں کی گردنیں کٹیں۔اور گردن کٹوانے کے لئے سب سے پہلے یہی آگے ہوئے۔اور آئندہ بھی ملک کو ضرورت پڑے گی تو احمدی ہی صف اول میں شمار ہوں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اسی طرح آج کل بنگلہ دیش میں بھی احمدیوں کے خلاف کوئی نہ کوئی فتنہ وفساد اٹھتا رہتا ہے۔چند سال پہلے مسجد میں بم پھٹا وہاں بھی چند ا حمدی شہید ہوئے اور گزشتہ سال بھی مخلص احمدی شاہ عالم صاحب کو شہید کیا گیا۔تو ایک مستقل تلوار یہاں بھی احمدیوں پر لٹکی ہوئی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے حوصلے اور صبر سے کام لے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان پر بھی اپنا فضل فرمائے۔جتنا چاہیں یہ ہم پر ظلم کر لیں اور جہاں جہاں بھی اور جس جس ملک میں ظلم کرنا چاہتے ہیں کر لیں لیکن احمدی ہر جگہ اپنے ملک کے ہمیشہ وفادار ہی ہوں گے۔اور جتنا دعوی کرنے والے یہ مخالفین ہیں اپنی وفاؤں کے ان سے زیادہ وفادار ہوں گے۔اور الہی جماعتوں سے دشمنی اور مخالفت کا سلوک ہمیشہ رہا ہے۔سب سے زیادہ تو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سلوک ہوا اور آپ نے کمال صبر کا مظاہرہ کیا، طائف کا واقعہ اس کی یاد دلاتا ہے کس طرح پتھر برسائے گئے لیکن آپ کا سلوک اس کے بعد کیا تھا۔ابن شہاب روایت کرتے ہیں کہ مجھے عروہ نے بتایا کہ انہیں ام المومنین حضرت عائشہ نے بتایا کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ پر جنگ احد سے سخت دن بھی