خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 133 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 133

$2004 133 خطبات مسرور کبھی آیا ہے۔اس پر آنحضور نے فرمایا مجھے تیری قوم سے بڑے مصائب پہنچے ہیں اور عقبہ والے دن مجھے سب سے زیادہ تکلیف پہنچی تھی۔جب میں نے اپنا دعویٰ عبدیالیل بن کلال کے سامنے پیش کیا تو اس نے میری خواہش کے مطابق مجھے جواب نہ دیا اور لڑکوں کو میرے پیچھے لگا دیا پھر میں غمزدہ چہرے کے ساتھ قرن الثعالب نامی مقام تک آیا میں نے اپنا سر او پراٹھایا تو کیا دیکھا کہ میرے اوپر ایک بادل ساید میگن ہے۔میں نے غور سے دیکھا تو اس میں جبرئیل تھے۔اس نے مجھے پکارا اور کہا اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کے تیرے بارے میں تبصرے اور جواب سن لئے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے تاکہ تو ان کے بارے میں اسے جو چاہے حکم دے۔پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے پکارا، مجھے سلام کہا پھر کہا اے محمد ! آپ کو ان کے بارے میں اختیار ہے آپ چاہتے ہیں کہ میں ان پر یہ دونوں پہاڑ گرا دوں؟ تو میں ایسا کرنے پر تیار ہوں۔مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، میں ان کو تباہ کرنا پسند نہیں کرتا بلکہ میں تو یہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا کہ اللہ تعالیٰ ان کی اولادوں میں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کریں اور اس کا کسی کو بھی شریک قرار نہ دیں۔(بخارى كتاب بدء الخلق باب ذكر الملائكة صلوات الله عليهم) ہمیں بھی انشاء اللہ تعالیٰ امید ہے آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔تیرہ برس کا زمانہ کم نہیں ہوتا اس عرصہ میں آپ نے ( یعنی آنحضرت می ﷺ نے ) جس قدر دکھ اٹھائے ان کا بیان بھی آسان نہیں ہے۔قوم کی طرف سے تکالیف اور ایذارسانی میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی جاتی تھی۔اور ادھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر و استقلال کی ہدایت ہوتی اور بار بار حکم ہوتا تھا کہ جس طرح پہلے نبیوں نے صبر کیا ہے تو بھی صبر کر اور آنحضرت ﷺ کمال صبر کے ساتھ ان تکالیف کو برداشت کرتے تھے اور تبلیغ میں ست نہ ہوتے تھے۔بلکہ قدم آگے ہی پڑتا تھا اور اصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا صبر پہلے نبیوں جیسا نہ تھا