خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 131 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 131

131 $2004 خطبات مسرور رکھو کہ جس نے جماعت سے بالشت بھر بھی انحراف کیا اور وہ اسی حالت میں مرگیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔(مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب ملازمة جماعة المسلمين عند ظهور الفتن) ہمیں ان حدیثوں میں مختلف صورتوں میں اور مختلف موقعوں پر صبر کی تلقین کی گئی ہے۔اور ساتھ یہ بھی کہ اگر صبر کرو گے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا قرب پاؤ گے، میری جنتوں کے وارث ٹھہرو گے۔لیکن جب دعا کرنے کے طریقے اور سیلقے سکھائے تو یہ نہیں فرمایا کہ مجھ سے صبر مانگو بلکہ فرمایا کہ مجھ سے میرافضل مانگو اور ہمیشہ ابتلاؤں سے بچنے کی دعا مانگو۔اس کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے۔ترمذی میں روایت ہے حضرت معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دعا کرتے ہوئے سنا وہ کہ رہا تھا کہ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری نعمت کی انتہا کا طلب گار ہوں۔آپ نے اس سے فرمایا نعمت کی انتہا سے کیا مراد ہے اس شخص نے جواب دیا میری اس سے مراد ایک دعا ہے جو میں نے کی ہوئی ہے اور جس کے ذریعے میں خیر کا امیدوار ہوں۔آپ نے فرمایا نعمت کی ایک انتہاء یہ ہے کہ جنت میں داخلہ نصیب ہو جائے اور آگ سے نجات عطا ہو۔اسی طرح آپ نے ایک اور شخص کی دعاستی جو کہ رہا تھا یا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ تو آپ نے فرمایا تمہاری دعا قبول ہو گئی اب مانگ جو مانگنا ہے۔تو اس طرح اللہ کا واسطہ دے کر مانگا جا رہا ہے۔اسی طرح آپ نے ایک اور شخص کو سنا جو دعا کر رہا تھا۔اے میرے اللہ ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں آپ نے فرمایا تم نے اللہ تعالیٰ سے ابتلاء مانگا ہے۔( صبر مانگنے کا مطلب یہی ہے کہ ابتلا مانگا ہے ) یعنی کوئی ابتلاء آئے گا تو صبر کرو گے۔خدا سے عافیت کی دعا کرو۔(ترمذى كتاب الدعوات)۔آنحضرت نے فرمایا اگر مانگنا ہے تو اللہ تعالیٰ سے عافیت کی دعامانگا کرو۔کبھی اس طرح دعا نہ مانگو کہ میں صبر مانگتا ہوں۔یہ تو بعض ذاتی معاملات کے بارے میں بتایا۔اب جماعتی ابتلا ء ہے، مخالفین کی طرف