خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 521
$2004 521 خطبات مسرور انتظار میں تشریف فرما تھے۔اس وقت ایک احمدی دوست میاں نظام دین صاحب ساکن لدھیانہ جو بہت غریب آدمی تھے اور ان کے کپڑے بھی پھٹے پرانے تھے حضور سے چار پانچ آدمیوں کے فاصلے پر بیٹھے تھے۔اتنے میں چند معزز مہمان آ کر حضور کے قریب بیٹھتے گئے اور ان کی وجہ سے ہر مرتبہ میاں نظام دین کو پرے ہٹنا پڑتا۔تھوڑی دیر کے بعد کوئی نہ کوئی معزز آ جاتا تھا۔اس کی وجہ سے وہ جگہ دے کے خود پیچھے ہٹ جاتے تھے حتی کہ وہ ہٹتے ہٹتے جو تیوں کی جگہ پر پہنچ گئے۔پھر کہتے ہیں کہ اتنے میں کھانا آیا تو حضور نے جو یہ سارا نظارہ دیکھ رہے تھے ایک سالن کا پیالہ اور کچھ روٹیاں ہاتھ میں اٹھا لیں اور میاں نظام دین سے مخاطب ہو کر فرمایا : آؤ میاں نظام دین! ہم اور آپ اندر بیٹھ کر کھانا کھائیں۔یہ فرما کر حضور مسجد کے ساتھ والی کوٹھڑی میں تشریف لے گئے اور حضور نے اور میاں نظام دین نے کوٹھڑی کے اندر بیٹھ کر ایک ہی پیالے میں کھانا کھایا۔اور اس وقت میاں نظام دین پھولے نہیں سماتے تھے اور جو لوگ میاں نظام دین کو عملاً پرے دھکیل کر حضرت مسیح موعود کے قریب بیٹھ گئے تھے وہ شرم سے کئے جاتے تھے۔سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحه (188 گزشتہ جمعے میں میں نے مجالس کے حقوق کے بارے میں بتایا تھا تو یہ واقعہ مجالس کے حقوق سے بھی متعلق ہے اور مہمان نوازی سے بھی متعلق ہے اور دوسرے کے جذبات کے احساس سے بھی معلق ہے۔کسی مجلس میں جو بھی نیا آنے والا ہو اس کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ بیٹھے ہوئے آدمی کی جگہ پر بیٹھے، چاہے وہ اس کے لئے جگہ خالی بھی کرے۔تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس وقت تو ایسے لوگوں کو کچھ نہیں کہا کہ کیوں اسے پیچھے دھکیل رہے ہو۔تربیت کرنا مقصود تھا۔اصل مقصد تو تربیت تھی ان لوگوں کی۔تو سوچ لیا تھا کہ ان بڑوں کی اصلاح یا تربیت میں نے کس طرح کرنی