خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 520 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 520

$2004 520 مسرور تو دیکھیں مہمان نوازی کے نظارے، خدا کے مسیح کی مہمان نوازی کے۔اس واقعہ کو تصور میں لائیں تو ہر ایک کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خودرات بہت دیر گئے ، ایک ہاتھ میں لالٹین پکڑی ہوئی ، اندھیرا بہت زیادہ تھا اور وہاں کے رستے بھی ایسے تھے، اور دوسرے ہاتھ میں دودھ کا گلاس مہمان کے لئے لے کے جار ہے ہیں۔اسی طرح مہمانوں کی ضرورت کے خیال کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک مہمان نے آکے کہا کہ میرے پاس بستر نہیں ہے تو حضرت صاحب نے حافظ حامد علی صاحب کو کہا کہ اس کو لحاف دے دیں حافظ حامد علی صاحب نے عرض کیا کہ یہ شخص لحاف لے جائے گا (اس کے حلیے سے لگ رہا ہو گا کہ لے جانے والا ہے ) تو حضور نے اس پر فرمایا کہ اگر یہ لحاف لے جائے گا تو اس کا گناہ اس کے سر ہوگا۔اور اگر بغیر لحاف کے سردی سے مر گیا تو ہمارا گناہ ہوگا۔(سیرت حضرت مسیح موعود جلد اوّل صفحه 130 مولفه شیخ یعقوب علی عرفانی مولوی عبدالکریم صاحب فرماتے ہیں کہ چار برس کا عرصہ گزرتا ہے کہ آپ کے گھر کے لوگ لدھیانہ گئے ہوئے تھے۔جون کا مہینہ تھا۔مکان نیا نیا بنا تھا۔دو پہر کے وقت وہاں چار پائی بچھی ہوئی تھی۔میں وہاں لیٹ گیا۔تو حضور ٹہل رہے تھے میں ایک دفعہ جا گا تو آپ فرش پر میری چار پائی کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔میں ادب سے گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔آپ نے بڑی محبت سے پوچھا کہ آپ کیوں اٹھے۔میں نے عرض کیا آپ نیچے لیٹے ہوئے ہیں اور میں اوپر کیسے سور ہوں۔کے فرمایا کہ میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا۔لڑکے شور کرتے تھے انہیں روکتا تھا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آئے۔مسکرا (سیرت حضرت مسیح موعود" مصنفه حضرت مولانا عبدا لكريم صاحب صفحه (41) حضرت منشی ظفر احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک قادیان کی اوپر کی چھت پر چند مہمانوں کے ساتھ کھانا کھانے کے