خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 522
$2004 522 خطبات مسرور ہے۔اور آپ کا حستاس دل غریب کے دل کا احساس کر رہا تھا۔اس لئے آپ نے کھانا آتے ہی خاموشی سے کھانا ڈالا اور اٹھا کر ایک طرف لے گئے اور خاموشی خاموشی میں سارے ماحول کو ساری مجلس کو سبق دے دیا کہ تم لوگ جسے حقیر سمجھ کر جو تیوں میں دھکیل چکے تھے یہ نہ سمجھو کہ وہ اس کا حقدار تھا بلکہ وہ تم سب سے زیادہ معزز ہے کیونکہ آج اہل خانہ کے پہلو میں بیٹھ اور خدا کے مسیح کے پہلو میں بیٹھ کر اس کی پلیٹ میں اس کے ساتھ کھانا کھا رہا ہے۔یہ دیکھ کر جیسا کہ روایت میں بھی آتا ہے، کہ ان بڑوں کا کیا حال ہو گا۔شرم سے پانی پانی ہو رہے تھے۔اس لئے ہمیشہ عاجزی کو پکڑے رکھیں اور ہر مہمان کی عزت واحترام کریں۔مہمانوں کے ساتھ جو مہمان نوازی کا سلوک ہے وہ ہمیشہ ایک جیسا ہونا چاہئے۔کسی کو غریب سمجھ کر، حقیر سمجھ کر مہمان نوازی میں فرق نہ آئے۔اور مہمانوں سے فرق کرنا اللہ تعالیٰ کو اس قدرنا پسند تھا کہ ایک دفعہ اس طرح کا فرق ہونے پر جو کارکنان کی طرف سے ہوا اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود کو خبر دی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ رات اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ لنگر خانے میں رات کو ریاء کیا گیا ہے۔فرمایا کہ اب جو نگر خانے میں کام کر رہے ہیں ان کو علیحدہ کر کے قادیان سے چھ ماہ تک نکال دیں۔جتنی نرم طبیعت تھی اس کے باوجود اتنا ناراضگی کا اظہار فرمایا حضور نے۔آپ نے فرمایا ان لوگوں کو چھ مہینے کے لئے قادیان سے ہی نکال دو۔اور ایسے شخص مقرر کئے جائیں جو نیک فطرت اور صالح ہوں۔(رجسٹر روایات صحابه جلد 3 صفحه 194 روایت میاں الله دتا صاحب سهرانی سکنه بستی رنداں ضلع ڈیرہ غازی خان ایک اور جگہ ایک روایت میں فرمایا کہ رات خدا تعالیٰ کی طرف سے جھڑک آئی ہے ( یعنی اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جھڑک کا نام دے رہے ہیں ) کہ میرا لنگر ذرا بھی منظور نہیں ہوا کیونکہ اس میں ریاء کیا گیا ہے مسکین محروم رہ گئے ہیں اور امراء کو اچھا کھانا کھلایا گیا ہے۔پھر کھانے کا انتظام حضرت صاحب نے اپنے سامنے کروایا اور سب کو ایک قسم کا کھانا کھلایا۔ویسے بھی لنگر خانے کا شعبہ خدائی منشاء کے مطابق ایک لمبے عرصے تک حضرت مسیح موعود نے اپنے پاس ہی رکھا تھا۔جب