خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 895
$2004 895 مسرور اب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت اور آپ کے لئے غیرت کی چند اور مثالیں جو روایات ہیں بچوں کی اور دوسری پیش کرتا ہوں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب جو آپ کے منجھلے بیٹے ، دوسرے بیٹے تھے فرماتے ہیں کہ : ” یہ خاکسار حضرت مسیح موعود کے گھر میں پیدا ہوا اور یہ خدا کی ایک عظیم الشان نعمت ہے جس کے شکریہ کے لئے میری زبان میں طاقت نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ میرے دل میں اس شکریہ کے تصور تک کی گنجائش نہیں۔مگر میں نے ایک دن مر کر خدا کو جان دینی ہے میں آسمانی آقا کو حاضر وناظر جان کر کہتا ہوں کہ میرے دیکھنے میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر پر بلکہ محض نام لینے پر ہی حضرت مسیح موعود کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھتی نہ آ گئی ہو۔آپ کے دل و دماغ بلکہ سارے جسم کا رواں روواں اپنے آقا حضرت سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق سے معمور تھا۔سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحه 26-27) پھر ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ : ” ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے مکان کے ساتھ والی چھوٹی سی مسجد میں جو مسجد مبارک کہلاتی ہے اکیلے ٹہل رہے تھے اور آہستہ آہستہ کچھ گنگناتے جاتے تھے اور اس کے ساتھ ہی آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی تار بہتی چلی جا رہی تھی۔اس وقت ایک مخلص دوست نے باہر سے آ کر سنا تو آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت حسان بن ثابت کا ایک شعر پڑھ رہے تھے جو حضرت حسان نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر کہا تھا اور وہ شعر یہ ہے كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِكْ فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدِكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ یعنی اے خدا کے پیارے رسول تو میری آنکھ کی پتلی تھا جو آج تیری وفات کی وجہ سے