خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 896
896 $2004 خطبات مسرور اندھی ہوگئی ہے اب تیرے بعد جو چاہے مرے مجھے تو صرف تیری موت کا ڈر تھا جو واقع ہوگئی۔راوی کا بیان ہے کہ جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس طرح روتے دیکھا اور اس وقت آپ مسجد میں بالکل اکیلے ٹہل رہے تھے تو میں نے گھبرا کر عرض کیا کہ حضرت یہ کیا معاملہ ہے اور حضور کوکونسا صدمہ پہنچا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا میں اس وقت حسان بن ثابت کا یہ شعر پڑھ رہا تھا اور میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہورہی تھی کہ کاش یہ شعر میری زبان سے نکلتا“۔رض (سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم-اے - صفحه 27-28 تو یہ تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت آپ کو۔یہ کھو کھلے نعرے، دعوے اور تحریریں نہیں تھیں۔آج مخالف اٹھ کے یہ کہہ دیتے ہیں کہ آپ تو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو کم رہے ہیں۔آج اگر اس مقام کو کسی نے پہچانا ہے اور اس کو بلند کرنے کی کوشش کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی غیرت رکھی ہے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی غیرت کا ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ میری عمر اس وقت 17 سال کی تھی کہ کسی جلسہ میں بھیجا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک وفد کی صورت میں۔فرمایا میری عمر اس وقت 17 سال کی تھی مگر وہاں مخالفین نے کچھ باتیں کیں۔فرمایا کہ میں اس بد گوئی کو سن کر برداشت نہ کر سکا اور اور میں نے کہا کہ میں تو ایک منٹ کے لئے بھی اس جلسہ میں نہیں بیٹھ سکتا، میں یہاں سے جاتا ہوں۔اکبر شاہ صاحب نجیب آبادی مجھے کہنے لگے کہ مولوی صاحب تو یہاں بیٹھے ہیں اور آپ اٹھ کر باہر جا رہے ہیں۔اگر یہ غیرت کا مقام ہوتا تو کیا مولوی صاحب کو غیرت نہ آتی۔میں نے کہا کچھ ہو مجھ سے تو یہاں بیٹھا نہیں جاتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ سخت کلامی مجھ سے برداشت نہیں ہوسکتی۔وہ کہنے لگے کہ آپ کو کم سے کم نظام کی اتباع تو کرنی چاہئے۔مولوی صاحب اس وقت ہمارے لیڈر ہیں اس لئے جب تک وہ بیٹھے ہیں اس وقت تک نظام کی پابندی کے لحاظ سے آپ کو اٹھ کر باہر نہیں جانا چاہئے۔ان کی یہ بات اس