خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 894
$2004 894 خطبات مسرور تھوڑی سی غیبت جس سے جو خفیف سے نشا سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا۔یعنی بیداری کے عالم میں اونگھ کی سی کیفیت تھی۔اس میں اس طرح ہوا کہ پہلے یک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی جیسی بہ سرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے۔پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت علی و حسنین و فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہم اجمعین۔اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔اب اس پر بھی بعض مخالفین کو اعتراض شروع ہو جاتا ہے کہ سر ران پر رکھنے سے۔اپنی ذہنی حالت کا دراصل وہ اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔کہ اتنا غلط مطلب نکالتے ہیں کہ شرم آتی ہے۔کوئی مسلمان کہلانے والا ایسی باتیں نہیں کر سکتا۔آپ فرما رہے ہیں کہ ” مادر مہربان کی طرح۔اب ماں کے مقام کی جو مثال ہے اس کے بارے میں بھی جو غلط سوچ رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے حال پر رحم کرے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔اور پھر یہ ہے کہ یہ فرمایا ہے کہ سامنے آ کر کھڑے ہو گئے جس طرح بچہ کو ساتھ چمٹا لیتے ہیں۔چمٹا لیا ساتھ تو فرمایا کہ مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سراپنی ران پر رکھ لیا۔پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی جس کی نسبت یہ بتلایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے جس کو علی نے تالیف کیا ہے۔اور اب علی وہ تفسیر تجھ کودیتا ہے۔الحمدللہ علی ذالک“۔( براهین احمدیه هر چهار حصص - روحانی خزائن جلد 1 صفحه 597-599 حاشیه در حاشیه نمبر ۳) پس دیکھیں اس عاشق صادق اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند کی محبت جو آپ کو اپنے آقا اور محبوب سے تھی کہ بے انتہا درود بھیجا کرتے تھے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے نوازا جیسا کہ اس سے ظاہر ہے۔پس آج ہمیں بھی اس محبت کے نمونے قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ دنیا کو جلد سے جلد اس آقا کی غلامی میں لاسکیں جو تمام دنیا کے لئے مبعوث ہوا ہے تا کہ دنیا میں امن اور محبت کی فضا پیدا ہو۔