خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 878 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 878

$2004 878 خطبات مسرور فرمایا اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے آپ پر حرام کیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے۔پس اے میرے بندو! تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔( یہ لمبی حدیث ہے اس میں مختلف قسم کے احکامات ہیں) تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں۔پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت عطا کروں گا۔پھر فرمایا اے میرے بندو ! تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں۔پس تم مجھ سے کھانا طلب کرو میں تمہیں کھلاؤں گا۔اے میرے بندو! تم میں سے ہر ایک نگا ہے سوائے اس کے جسے میں کپڑے پہناؤں۔پس تم مجھ سے لباس طلب کرو، میں تمہیں لباس عطا کروں گا۔اور پھر فرمایا اے میرے بندو! تم رات دن خطائیں کرتے ہواور میں تمام گناہ بخشتا ہوں۔پس تم مجھ سے بخشش طلب کرو میں تمہیں تمہارے گناہ بخش دوں گا۔اے میرے بندو! ( یہاں عبادت کی طرف توجہ دلائی ہے ) تم اس مقام پر نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نقصان پہنچاؤ اور نہ ہی تم ایسی حیثیت رکھتے ہو کہ مجھے نفع پہنچاؤ۔تو بندے کوکوئی اختیار ہی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو عبادت کر کے یا نہ کر کے نقصان یا نفع پہنچا سکے۔اس کی آگے پھر وضاحت فرمائی کہ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے، تمہارے عوام اور تمہارے خواص تم میں سے ایک انتہائی متقی دل رکھنے والے شخص کی طرح ہو جائیں تو یہ میری سلطنت میں کچھ بھی اضافہ نہ کر سکے گا۔اوراے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے تمہارے عوام اور تمہارے خواص تم میں سے انتہائی فاجر دل رکھنے والے کی طرح ہو جائیں تو اس سے میری سلطنت میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے، تمہارے عوام اور تمہارے خواص ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر شخص کو اس کی مطلوبہ اشیاء عطا کر دوں تو بھی جو کچھ میرے پاس ہے۔اس میں سے کچھ بھی کمی کرنے کا باعث نہ ہوگا سوائے اس کے جتنا سوئی کو سمندر میں ڈال کر نکالنے سے کمی واقع ہوتی ہے۔اور اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جو میں تمہاری خاطر شمار کرتا ہوں۔پھر میں پوری پوری جزا تم کو عطا کرتا ہوں۔مجھے کوئی شمار کرنے کی