خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 879
$2004 879 خطبات مسرور ضرورت نہیں ہے۔تمہیں جزا دینے کے لئے شمار کرتا ہوں۔پس تم میں سے جو شخص خیر پائے (اکثر یہ ہوتا ہے کہ شمار کے بجائے بے حساب جانے دیتا ہے ایسی بھی روایات ہیں ) پس تم میں سے جوشخص خیر پائے اسے چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرے۔اور جو اس کے سوا پائے اسے چاہئے کہ وہ صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے۔سعید کہتے ہیں کہ جب راوی یہ حدیث بیان کرتے تھے تو گھٹنوں کے بل گر جاتے تھے۔پس یہاں جو فرمایا کہ حمد کرے تو یہ حمد عبادت ہی سے ہے جتنی زیادہ اللہ تعالیٰ کی حمد کی طرف توجہ پیدا ہو گی اتنی ہی زیادہ عبادت کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔فرمایا کہ اگر نہیں کرو گے مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ سب دنیا کے بندے، موجود بھی، پہلے بھی اور نئے آئندہ بھی جو دنیا میں آنے والے ہیں وہ بھی اگر متقی بن جائیں اور ایک متقی شخص کی طرح ہو جائیں تو اس سے میری حکومت اور ملکیت میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ادنی سا بھی فرق نہیں پڑے گا اتنی بھی کمی نہیں ہو گی۔اگر سب برائیوں اور گناہوں میں مبتلا ہو جائیں تو بھی میری سلطنت اور بادشاہت میں کمی نہیں ہوگی۔اتنی کمی بھی نہیں ہوتی جتنی سمندر میں ایک سوئی کو ڈبونے سے اس کے نکے میں جو پانی کا قطرہ چمٹ جاتا ہے اس پانی کے نکلنے سے کمی ہوتی ہو۔یہ سب چیزیں تو تمہارے فائدے کے لئے ہیں۔اپنی دنیا اور عاقبت سنوارنے کے لئے تم یہ عبادت کرتے ہوا گر تم میرے سامنے جھکتے ہو۔پھر ایک روایت میں آتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”انسان اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہو اس لئے سجدے میں بہت دعا کرو“۔(مسلم كتاب الصلواة ما يقال في الركوع والسجود) یہ عبادت کے طریق ہیں۔نماز کی طرف توجہ ہے۔جو نماز پڑھے گا تو سجدے میں بھی جائے گا۔تو نمازوں کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔پھر نمازوں میں سجدے میں سب سے زیادہ دعا