خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 877 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 877

$2004 877 مسرور فرمایا: " غرض خدا تعالیٰ متقی کی زندگی کی پرواہ کرتا ہے اور اس کی بقا کو عزیز رکھتا ہے۔اور جو اس کی مرضی کے برخلاف چلے وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کو جہنم میں ڈالتا ہے۔اس لئے ہر ایک کو لازم ہے کہ اپنے نفس کو شیطان کی غلامی سے باہر کرے۔جیسے کلورا فارم نیند لاتا ہے اسی طرح پر شیطان انسان کو تباہ کرتا ہے اور اسے غفلت کی نیند سلاتا ہے اور اسی میں اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔(الحكم جلد 5 نمبر 30 مورخه 17/ اگست (1901ء صفحه 1 تو یہاں جو آپ کو رویا میں دکھایا گیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے اور ان کی حیثیت جانوروں کی طرح کی ہے۔اور ان کو نقصان پہنچتا ہے تو ان کی کوئی بھی پرواہ نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ ان کی بالکل بھی حفاظت نہیں فرما تا بلکہ آپ نے فرمایا کہ وہ جہنم میں ڈالتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اے نے فرمایا کہ دعا ہی در اصل عبادت ہے۔پھر آنحضور ﷺ نے یہ آیت فرمائی ﴿ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِي أَسْتَجِبْلَكُمْ إِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ داخِرِينَ (المومن : (61) اور تمہارے رب نے کہا مجھے پکارو میں تمہیں جواب دوں گا۔یقینا وہ لوگ جو میری عبادت کرنے سے اپنے تئیں بالا سمجھتے ہیں ضرور جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔(ترمذی ابواب الدعوات باب ما جاء في فضل الدعاء)۔تو بالا تو وہی سمجھتے ہیں جن میں تکبر پایا جاتا ہے یا جن کے اندر شیطان گھسا ہوا ہے۔اس لئے شیطان ذہنوں میں ایسے خیالات پیدا کرتا رہتا ہے کیونکہ شیطان ہے اور شیطان کسی وقت بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔اس لئے چاہے جن پر اثر ہے یا نہیں ہے، اس لئے اپنے ماحول میں جیسا دنیا میں ماحول میسر ہے استغفار کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے تا کہ جہنم کے عذاب سے بچے رہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ باتیں جو نبی نے اپنے اللہ تبارک و تعالیٰ سے روایت کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے