خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 785 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 785

$2004 785 خطبات مسرور ضروری بات کر سکتے ہیں۔ضروری امور کا خیال رکھنا چاہئے۔اور یوں تو ہر ایک کام ( مومن کا ) عبادت ہی ہوتا ہے۔" (ملفوظات جلد دوم صفحه 588,587 - الحكم 2 جنوری (1903) تو مومن بن کے رہیں تو کوئی ایسا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔الله حضرت عائشہؓ سے مروی کہ رسول اللہ ہے جب اعتکاف فرماتے تو آپ سر میرے قریب کر دیتے تو میں آپ کو کنگھی کر دیتی اور آپ گھر صرف حوائج ضروریہ کے لئے آتے۔“ (ابو دائود كتاب الصيام - باب المعتكف يدخل البيت لحاجته ) تو بعض لوگ اتنے سخت ہوتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ اعتکاف میں اگر عورت کا ، بیوی کا ہاتھ بھی لگ جائے تو پتہ نہیں کتنا بڑا گناہ ہو جائے گا۔اور دوسرے یہ کہ حالت ایسی بنالی جائے ، ایسا بگڑا ہوا حلیہ ہو کہ چہرے پر جب تک سنجیدگی طاری نہ ہو، حالت بھی بُری نہ ہو اس وقت تک لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ دوسروں کو پتہ نہیں لگ سکتا کہ یہ آدمی عبادت کر رہا ہے۔تو یہ غلط طریق کار ہے۔تو یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ اعتکاف میں اپنی حالت بھی سنوار کے رکھنی چاہئے اور تیار ہو کے رہنا چاہئے۔اور دوسرے یہ کہ بیوی یا کسی محرم رشتے دار سے اگر آپ سر پر تیل لگوا لیتے ہیں یا کنگھی کروا لیتے ہیں اس وقت جب وہ مسجد میں آیا ہو تو کوئی ایسی بات نہیں ہے۔رمضان کے آخری عشرے میں آنحضرت مے کی عبادتوں کے کیا نظارے ہوتے تھے۔آپ کی تو عام دنوں کی عبادتیں بھی ایسی ہوتی تھیں کہ خیال آتا ہے کہ اس میں اور زیادہ کیا اضافہ ہوتا ہو گا۔لیکن آپ رمضان کے آخری عشرے میں اس میں بھی انتہا کر دیا کرتے تھے۔حضرت عائشہ صلى الله سے مروی ہے کہ جب رمضان میں سے ایک عشرہ باقی رہ جاتا تو آنحضور ﷺے کمر کس لیتے اور اپنے اہل سے ان دنوں میں بالکل علیحدہ ہو جاتے اور مسجد میں چلے جاتے اور چوبیس گھنٹے صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے تھے۔تو یہ آخری عشرہ چند دن تک ہمارے پر بھی اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آنے والا ہے