خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 784
خطبات مسرور 784 یہ میں باتیں اس لئے کر رہا ہوں کہ بعض لوگ اس قسم کے سوال بھیجتے ہیں۔$2004 ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف میں تھے۔میں ان کی ملاقات کو رات کے وقت گئی۔اور میں نے آپ سے باتیں کیں جب میں اٹھی اور لوٹی تو آپ سبھی میرے ساتھ اٹھے۔حضرت صفیہ کا گھر ان دنوں اسامہ بن زید کے مکانوں میں تھا۔راستے میں انصاری راہ میں ملے۔انہوں نے جب آپ کو دیکھا تو تیز تیز چلنے لگے۔آپ نے ان انصاریوں کو ) فرمایا کہ اپنی چال سے چلو۔یہ صفیہ بنت حیی ہے۔ان دونوں نے یہ سن کر کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ ! ہمارا ہرگز ایسا گمان آپ کے بارے میں نہیں ہوسکتا۔آپ نے فرمایا: نہیں ، شیطان خون کی طرح آدمی کی ہر رگ میں حرکت کرتا ہے۔مجھے خوف ہوا کہیں شیطان تمہارے دل میں بری بات نہ ڈال دے۔(ابو داؤد کتاب الصيام باب المعتكف يدخل البيت لحاجته) تو ایک تو آپ نے اس میں شیطانی وسوسے کو دور کرنے کی کوشش فرمائی۔بتا دیا کہ یہ حضرت صفیہ ہیں، ازواج مطہرات میں سے ہیں۔دوسرے یہ کہ اعتکاف کی حالت میں مسجد سے باہر کچھ دور تک چلے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔بلکہ اگر مسجد میں حوائج ضروریہ کا انتظام نہیں ہے، غسل خانوں وغیرہ کی سہولت نہیں ہے تو اگر گھر قریب ہے تو وہاں بھی جایا جا سکتا ہے۔آج کل تو ہر مسجد کے ساتھ انتظام موجود ہے اس لئے کوئی ایسی دقت نہیں ہے۔لیکن پھر بھی کچھ وقت کے لئے مسجد کے صحن میں یا باہر ٹہلنے کی ضرورت محسوس ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجلس میں بیٹھے تھے، خواجہ کمال دین صاحب اور ڈاکٹر عباداللہ صاحب ان دنوں میں اعتکاف بیٹھے تھے تو آپ نے ان کو فرمایا کہ: اعتکاف میں یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان اندر ہی بیٹھا رہے اور بالکل کہیں آئے جائے ہی نہ ( مسجد کی ) چھت پر دھوپ ہوتی ہے وہاں جا کر آپ بیٹھ سکتے ہیں۔کیونکہ نیچے یہاں سردی زیادہ ہے۔وہاں تو ہیٹنگ (Heating) کا سسٹم نہیں ہوتا تھا۔سردیوں میں لوگ دھوپ میں بیٹھتے ہیں، پتہ ہے ہر ایک کو اور