خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 779
$2004 779 مسرور اللہ تعالیٰ کا قرب بھی ہر ایک کو اس کی استعدادوں کے مطابق مل جائے گا۔کیونکہ ہر ایک میں کوئی چیز پانے کی کوئی چیز حاصل کرنے کی ایک طاقت ہوتی ہے تو ہر ایک کو اس کے مطابق ہی ترقی ملتی ہے اور استغفار کرنے سے وہ ترقی مل جاتی ہے۔بہر حال اس کے لئے ہر ایک کو کوشش کرتے رہنا چاہئے۔اور جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا تھا کہ مومنوں کی عبادات میں تیزی رمضان کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر پانے کے لئے بھی آتی ہے۔اور جیسا کہ حدیث میں ذکر ہے، آخری عشرہ جہنم سے نجات کا بھی باعث بنتا ہے۔اس لئے بھی عبادات کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔اور پھر ان کے حصول کے لئے ہر کوئی اپنی اپنی طاقتوں اور استعدادوں کے مطابق کوشش بھی کرتا رہتا ہے۔لیلۃ القدر کا مضمون ایک بڑا گہرا اور وسیع مضمون ہے۔اس کے بارے میں بھی کچھ وضاحت کروں گا۔لیکن اس سے پہلے کیونکہ آخری عشرے میں اعتکاف بھی بیٹھا جاتا ہے، اس لئے اعتکاف کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اعتکاف کے ضمن میں کچھ باتیں اس کے مسائل کے بارے میں اور کچھ باتیں انتظامی لحاظ سے ہیں۔کچھ بیٹھنے والوں کے لئے ہیں اور کچھ دوسرے لوگوں کے لئے ہیں جن کا ہر احمدی کو خیال رکھنا چاہئے۔پہلی بات تو یہ یاد رکھیں کہ اعتکاف رمضان کی ایک نفلی عبادت ہے۔اس لئے جگہ کی مناسبت سے، اس کی گنجائش کے مطابق جو مرکزی مساجد ہیں ان میں یا جو بھی اپنے شہر کی مسجد ہو اس میں بھی حالات کے مطابق اعتکاف بیٹھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔بعض لوگوں کا زور ہوتا ہے کہ ہم نے ضرور اعتکاف بیٹھنا ہے اور فلاں مسجد میں ہی ضرور بیٹھنا ہے۔مثلاً ربوہ میں مسجد مبارک میں یا مسجد اقصیٰ میں بیٹھنا ہے یا یہاں مسجد فضل میں بیٹھنا ہے یا مسجد بیت الفتوح میں بیٹھنا ہے۔اور پھر اس کے لئے زور بھی دیا جاتا ہے، خط پہ خط لکھے جاتے ہیں اور سفارش کرنے کی درخواستیں کی جاتی ہیں۔تو یہ طریق غلط ہے۔دعا کی قبولیت تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہو تو کہیں بھی ہو سکتی ہے۔یہ تو نہیں فرمایا کہ جو اعتکاف بیٹھیں گے ان کو لیلۃ القدر حاصل ہوگی اور باقیوں کو نہیں ہوگی۔کسی خاص جگہ سے تو