خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 778 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 778

778 $2004 خطبات مسرور باعث بن جائے گا۔تم اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہو جاؤ گے۔اور اس وجہ سے آئندہ نیکیوں میں ترقی کرنے والے ہو جاؤ گے اور بدیوں کو ترک کرنے والے ہو جاؤ گے۔لیکن شرط یہ ہے کہ نیک نیتی سے استغفار کرنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”استغفار اور تو بہ دو چیزیں ہیں۔ایک وجہ سے استغفار کو تو بہ پر تقدم حاصل ہے۔یعنی استغفار تو بہ سے بڑھ کر ہے کیونکہ استغفار مدد اور قوت ہے جو خدا سے حاصل کی جاتی ہے۔اور تو بہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے۔عادت اللہ یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے مدد چاہے گا تو خدا تعالیٰ ایک قوت دے دے گا اور پھر اس قوت کے بعد انسان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاوے گا۔اور نیکیوں کے کرنے کے لئے اس میں ایک قوت پیدا ہو جاوے گی۔جس کا نام تُوبُوا إِلَيْهِ ہے اس لئے طبعی طور پر بھی یہی ترتیب ہے۔غرض اس میں ایک طریق ہے جو سالکوں کے لئے رکھا ہے کہ سالک ہر حالت میں خدا سے استمد ادچا ہے۔سالک جب تک اللہ تعالیٰ سے قوت نہ پائے گا کیا کر سکے گا۔توبہ کی توفیق استغفار کے بعد ملتی ہے۔اگر استغفارنہ ہو تو یقیناً یا درکھو کہ تو بہ کی قوت مرجاتی ہے۔پھر اگر اس طرح پر استغفار کرو گے اور پھر تو بہ کرو گے تو نتیجہ یہ ہوگا يُمَتِّعُكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى اَجَلٍ مُّسَمًّى (هود: 3) یعنی ایک مدت تک تمہیں اللہ تعالیٰ بہترین سامان معیشت عطا کرتا رہے گا۔" سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر استغفار اور تو بہ کرو گے تو اپنے مراتب پالو گے۔ہر ایک حس کے لئے ایک دائرہ ہے جس میں وہ۔مدارج ترقی کو حاصل کرتا ہے"۔(ملفوظات جلد دوم صفحه 69-68) تو یہ ہے استغفار کی اصل حقیقت جو ہمیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے سمجھائی۔پس حدیث میں جو آیا ہے کہ درمیانی عشرہ مغفرت کا موجب ہے ، یہ مغفرت تبھی ہوگی جب اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں گے۔اور جب ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت مل گئی ، بخشش کے سامان ہونے شروع ہو گئے، وہ راضی ہو گیا تو وہ مرتبے بھی مل جائیں گے،