خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 780
$2004 780 خطبات مسرور مخصوص نہیں ہے ہاں بعض جگہوں کی ایک اہمیت ہے اور ان کے قرب کی وجہ سے بعض دفعہ جذبات میں خاص کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن یہ سوچ بہر حال غلط ہے کہ ہم نے فلاں جگہ ضرور بیٹھنا ہے۔بعض دفعہ لوگوں کو صرف یہ خیال ہوتا ہے کہ پچھلے سال فلاں بیٹھا تھا اس لئے اس سال ہمیں باری دی جائے۔یا اس سال ہم نے ضرور بیٹھنا ہے۔یہ دیکھا دیکھی والی بات ہو جاتی ہے۔نیکیوں میں بڑھنے والی بات نہیں رہتی۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ہر رمضان میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، ایک رمضان میں نماز فجر کی ادائیگی کے بعد آپ اپنے خیمہ میں داخل ہوئے تو حضرت عائشہ نے اعتکاف بیٹھنے کی اجازت مانگی تو آپ نے ان کو اجازت دے دی۔انہوں نے بھی اعتکاف کے لئے خیمہ لگالیا حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ کے اعتکاف کرنے کا سنا تو انہوں نے بھی اعتکاف کے لئے خیمہ لگا لیا۔حضرت زینب نے یہ خبر سنی تو انہوں نے بھی اعتکاف کے لئے خیمہ لگا لیا۔رسول اللہ اللہ نے جب اگلی صبح دیکھا تو چار خیمے لگے ہوئے تھے۔اس پر آپ ﷺ نے فرمایا یہ کیا ہے؟ اس پر آپ کو امہات المومنین کا حال بتایا گیا کہ ہر ایک نے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی خیمہ لگا لیا ہے، اس لحاظ سے کہ آنحضرت ﷺ کا قرب حاصل ہو جائے گا ) اس پر آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ ان کو ایسا کرنے پر کس چیز نے مجبور کیا ہے۔کیا نیکی نے؟ ان خیموں کو اٹھا لومیں ان کو نہ دیکھوں۔چنانچہ وہ خیمے اکھاڑ دیئے گئے ، پھر آنحضورﷺ نے اس رمضان میں اعتکاف نہ کیا۔اپنا خیمہ بھی اٹھا لیا۔البتہ اس سال ) آپ نے ( روایت کے مطابق آخری عشرہ شوال میں اعتکاف کیا۔(بخاری کتاب الاعتكاف ـ باب اعتکاف فی شوال ) یہ دیکھا دیکھی والی نیکیاں بدعات بن جاتی ہیں۔آپ برداشت نہ کر سکتے تھے کہ بدعات پھیلیں۔نیکیوں کی خواہش تو دل سے پھوٹنی چاہئے۔اس کا اظہار اس طرح ہو کہ لگے کہ نیکی کی خواہش دل سے نکل رہی ہے۔یہ نہ ہو کہ لگ رہا ہو دیکھا دیکھی سب کام ہو رہے ہیں۔امہات