خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 760 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 760

760 $2004 خطبات مسرور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے جو ہر عاشق سے ایک جیسے معیار قربانی کا مطالبہ کرے۔بلکہ ہر ایک کی استعداد کے مطابق ، ہر ایک کی طاقت کے مطابق قربانی کا حکم ہے، یا احکامات پر عمل کرنے کا حکم ہے۔لیکن شرط یہی ہے کہ مستقل مزاجی سے اللہ تعالیٰ کی باتوں پر عمل کرنے اور ان میں ترقی کرنے کی کوشش کرنی ہے۔پھر فرمایا کہ مجھ پر ایمان لائیں تا کہ ہدایت پائیں۔اب کامل ایمان بھی یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی سچی اطاعت کی جائے۔پھر یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ ایسی چیزیں ہیں جو ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔اس لئے اس آیت میں جو یہ لکھا ہے کہ میری بات پر لبیک کہیں وہ باتیں یہی ہیں کہ اعمال صالحہ بجالائیں، نیک اعمال بجالائیں۔نیکیوں پر قائم ہوں اور پھر عبادت کرتے ہوئے دعائیں مانگیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہارے قریب ہوں۔فرمایا کہ پھر میں تمہارا دوست بنوں گا۔جیسا کہ فرماتا ہے۔اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ آمَنُوْا﴾ (البقرة:258) که الله تعالیٰ ان لوگوں کا دوست ہوتا ہے جو ایمان لاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی یہ دوستی اور ایمان تمہیں اللہ تعالیٰ کا قرب عطا کرے گا۔اور پھر یہ کہ قرب عطا کرتا چلا جائے گا ، اس میں ترقی ہوتی چلی جائے گی۔یہ قرب ایسا نہیں کہ ایک جگہ رکنے والا ہے۔وہ دعاؤں کو بھی سنے گا۔لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا قرب اس کی قربت اور دعاؤں کی قبولیت کچھ شرائط کے ساتھ ہے۔پہلی تو یہی کہ اس کا عبد بن کے رہنا ہے۔خالص اس کا ہونا ہے۔خالص ہو کر اس کی عبادت کرنی ہو گی۔اس کو سب طاقتوں کا سر چشمہ سمجھنا ہوگا۔پھر یہ کہ جب بھی مانگنا ہے اس سے مانگنا ہے۔یہ نہیں کہ دل میں چھوٹے چھوٹے خدا بنائے ہوں۔جس سے کوئی فائدہ پہنچ رہا ہو اس کی جھوٹی سچی تعریفیں بھی شروع کر دیں۔بعضوں کو افسروں سے فائدہ پہنچتا ہے تو وہ ان کو یا ان کے بچوں کو خوش کرنے کے لئے بعض دفعہ نماز میں تک ضائع کر دیتے ہیں اور ان کے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔تو فرمایا کہ یہ باتیں قرب حاصل کرنے کے لئے ضروری ہیں کہ جب بھی