خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 761
761 $2004 خطبات مسرور تم کوئی کام کر رہے ہو، دنیا داری کا بھی کام کر رہے ہو تو تمہاری یہ دنیا داری یہ تمہاری نمازوں میں روک نہ بنے ، تمہاری عبادتوں میں روک نہ بنے۔تمہاری کا روباری مصروفیات تمہیں عبادتوں سے غافل کرنے والی نہ ہوں۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے متعلق آتا ہے کہ ایک دفعہ ان کی ملکہ سے کوئی میٹنگ تھی، گئے ہوئے تھے، تو کچھ دیر کے بعد انہوں نے بڑی بے چینی سے اپنی گھڑی دیکھنی شروع کر دی۔آخر ملکہ کو پتہ لگا اس نے پوچھا۔آپ نے کہا ایک خدا ہے جس کی میں عبادت کرتا ہوں، اور اب میرا اس کی عبادت کا وقت ہے۔تو یہ جرات ہونی چاہئے کہ کوئی بڑے سے بڑا افسر یا بادشاہ بھی ہو، اس کے سامنے بالکل نہیں جھجکنا۔اللہ تعالیٰ کی ہستی کے سامنے کوئی بھی ہستی نہیں ہے۔یہ تو سب دنیاوی چیزیں ہیں۔آخر اس کو اپنے عملہ کو بھی کہنا پڑا کہ آئندہ یہ خیال رکھنا کہ ان کے نمازوں کے وقت اگر آ ئیں تو خود ہی بتا دیا کرو۔تو یہ جرات ہر احمدی کو دکھانی چاہئے۔پھر یہ بھی شرط ہے کہ رسول کی اطاعت کرنی ہے، جو احکامات دیئے ہیں جو ارشادات فرمائے ہیں جس طرح ہمیں نصیحت کی ہے جو ہم سے توقعات رکھی ہیں جس طرح کام کر کے دکھائے ہیں اس طرح کرنا ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں جو تعلیم دی ہے اس پر عمل کرنا ہوگا۔پھر یہ بھی یقین رکھنا ہوگا اور ایک مومن کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ خدا تعالیٰ دعائیں سنتا ہے، اور سننے کی طاقت رکھتا ہے۔اور اگر اپنے جذبات میں اور دعاؤں میں شدت پیدا ہونے کے باوجود دعا قبول نہیں ہوتی تو پھر یا تو ہمارے دعا مانگنے کے طریق میں کوئی کمی ہے یا ہماری دوسری کمزوریاں اور حقوق کی عدم ادائیگی آڑے آ گئی ہے۔حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے،لوگوں کے حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں پر ظلم کرنے کی وجہ سے روکیں پڑ رہی ہیں۔یا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ کام یا مقصد جس کے لئے ہم دعا کر رہے ہیں ہمارے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔تو