خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 658 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 658

$2004 658 خطبات مسرور قائم کرنے کا بلکہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کا جہاد یہاں مراد ہے۔مالی قربانیوں کا جہاد مراد ہے۔دلائل سے دشمن کا منہ بند کرنے کا جہاد مراد ہے۔آج دجال نے اپنی چالوں سے مسلمانوں کو اپنے دین سے لاتعلق کر دیا ہے۔اس دجال کے خلاف اسی طرح کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ،اس سے وہ جہاد کرنا مراد ہے۔وہ تو اپنے لٹریچر کے ذریعے سے جہاد کر رہے ہیں۔تو جماعت احمدیہ بھی لٹریچر کے ذریعہ سے ہی جہاد کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو دنیا میں قائم کرنے کا جہاد مراد ہے۔اور انہی چیزوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہادا کبر قرار دیا ہے۔پھر جو دین کا خلاصہ آپ نے بیان فرمایا وہ یہ ہے کہ اپنی زبان سے ہمیشہ اچھے کلمات نکالو۔نیکی کی تعلیم دو۔لوگوں کو کبھی اپنی زبان سے دیکھ نہ دو، کبھی کسی کے جذبات کو کوئی کڑوی بات کہہ کر دکھ نہ پہنچاؤ۔کیونکہ تمہاری باتیں ہی ہیں جو تمہیں جہنم میں لے جانے والی ہیں۔بعض دفعہ مظلوم کی آہ لگ جاتی ہے۔اور وہ ایک آہ ساری زندگی کی نیکیوں کو ختم کر دیتی ہے نیکیوں میں آگے بڑھنے والوں کی زبانیں ہمیشہ پاک صاف رہتی ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے پانچ حق ہیں۔سلام کا جواب دینا، بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرنا ، فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شامل ہونا ، اس کی دعوت قبول کرنا اور اگر وہ چھینک مارے اور اَلْحَمْدُ لِلہ کہے تو اس کی چھینک کا جواب يَرْحَمُكَ الله کی دعا کے ساتھ دینا۔ایک اور روایت میں زائد بات یہ ہے کہ جب تو اسے ملے تو اسے سلام کہے اور جب وہ تجھ سے خیر خواہانہ مشورہ مانگے تو خیر خواہی اور بھلائی کا مشورہ دے۔تو یہ ہیں نیکیاں پھیلانے اور ان پر بڑھنے کے طریقے جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بتائے ہیں۔اگر غور کریں تو دیکھیں ان باتوں پر عمل کر کے ایک خوبصورت معاشرہ قائم ہوگا۔جو