خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 659
$2004 659 خطبات مسرور صرف نیکی کرنے والا معاشرہ ہوگا، جو صرف نیکی پھیلانے والا معاشرہ ہوگا، جوصرف نیکیوں میں آگے بڑھنے والا معاشرہ ہوگا۔جہاں ایک دوسرے کو دعائیں بھی دے رہے ہوں گے اور خیر خواہی اور بھلائی کے مشورے بھی دے رہے ہوں گے۔نیکی میں پیچھے رہ جانے والوں کو ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بھی ملا رہے ہوں گے۔پھر ایک روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص خدا کی راہ میں جس نیکی میں ممتاز ہوا اسے اس نیکی کے دروازے میں جنت کے اندر آنے کے لئے کہا جائے گا۔اسے آواز آئے گی ، اے اللہ کے بندے! یہ دروازہ تیرے لئے بہتر ہے۔اسی سے اندر آؤ۔اگر وہ نماز پڑھنے میں ممتاز ہوا تو نماز کے دروازے سے اسے بلایا جائے گا۔اگر جہاد میں ممتاز ہوا تو جہاد کے دروازے سے۔اگر روزے میں ممتاز ہوا تو روزے کے دروازے سے۔اگر صدقہ میں ممتاز ہوا تو صدقے کے دروازے سے بلایا جائے گا۔حضور کا یہ ارشاد سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا، اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں جسے اس دروازے میں سے کسی ایک سے بلایا جائے اسے کسی اور دروازے کی ضرورت تو نہیں لیکن پھر بھی کوئی ایسا خوش نصیب بھی ہو گا جسے ان سب دروازوں سے آواز پڑے گی؟ آپ نے فرمایا: ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم بھی ان خوش نصیبوں میں سے ہو۔(بخاری کتاب الصوم باب الريان للصائمين تو یہ ہے اصل نیکیوں میں بڑھنے والوں کا رویہ اور خواہش کہ کاش وہ ہر دروازے سے داخل ہوں اور کوشش یہ کرنی چاہئے کہ ہر قسم کی نیکی بجالائی جائے۔کیونکہ ایک دوسری حدیث میں یہ بھی ہے کہ جہنم کے بھی دروازے ہیں اور بعض گناہگاروں کو جہنم کے دروازے جنت میں داخل ہونے سے روک بن سکتے ہیں۔نمازیں پڑھنے والوں کے بارے میں جو آیا ہے کہ نمازیں ان پہ الٹادی جائیں گی وہ اسی لئے ہے کہ اگر ایک نیکی کر رہے ہیں تو دوسری نیکیوں میں بھی بڑھنے کی کوشش کرنی