خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 657 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 657

$2004 657 خطبات مسرور گناہ کی آگ کو اس طرح بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔رات کے درمیانی حصے میں نماز پڑھنا اجر عظیم کا موجب ہے۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی تجافی بخونم عَنِ الْمَصابع (السجدہ: 17) کہ اُن کے پہلو اُن کے بستروں سے تہجد کی نماز پڑھنے کے لئے الگ ہو جاتے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو سارے دین کی جڑ بلکہ اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے۔آپ نے فرمایا: دین کی جڑ اسلام ہے۔اس کا ستتون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تجھے اس سارے دین کا خلاصہ نہ بتاؤں۔میں نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے۔آپ نے اپنی زبان کو پکڑا اور فرمایا اسے روک کر رکھو۔میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں کیا اس کا بھی ہم سے مؤاخذہ ہو گا۔آپ نے فرمایا: عربی کا محاورہ ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تیری ماں تجھ کو گم کرے۔یعنی جب کسی کو افسوس سے کچھ کہنا ہو یا تاسف سے اس وقت یہ فقرہ بولا جاتا ہے کہ لوگ اپنی زبانوں کی کاٹی ہوئی کھیتیوں یعنی اپنے برے بول اور بے موقع باتوں کی وجہ سے ہی جہنم میں اوندھے منہ گرتے ہیں۔(ترمذی ابواب الايمان باب في حرمة الصلواة) اس میں پہلی روایت کے علاوہ بھی چند باتوں کا ذکر ہے۔یعنی رمضان کے روزے اور حج۔پھر کیونکہ آپ میں امت کو سیدھے راستے اختیار کروانے کے لئے نیکیوں پر قائم کرنے کے لئے ایک تڑپ تھی اس لئے اور بہت سی نیکیوں کی باتیں آپ نے خود کھول کھول کر بیان کر دیں۔کہ روزہ تمہیں گناہوں سے بچائے گا صدقہ خیرات، مالی قربانی تمہیں آگ سے بچائے گی، تہجد پڑھنا بہت بڑے اجر کا باعث ہوگا، پھر اس کی چوٹی جہاد بتایا اور اس زمانے میں جہاد کیا ہے، کیونکہ تلوار کا جہاد تو حضرت مسیح موعود کی آمد کے بعد اب ختم ہو گیا جنگ اور قتال کو تو آپ نے دین کے لئے حرام قرار دے دیا۔یہاں جہاد سے مراد اپنے نفس کے خلاف جہاد ہے۔نفس کو برائیوں سے روک کر نیکیوں پر