خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 608
$2004 608 خطبات مسرور جماعت کی برکات سے فیضیاب ہو سکتے ہیں اور اس کے لئے جیسا کہ میں نے کہا قربانیاں بھی کرنی پڑتی ہیں اور صبر بھی دکھانا پڑتا ہے۔کسی کے ایمان کے اعلیٰ معیار کا تو تبھی پتہ چلتا ہے جب اس پر کوئی امتحان کا وقت آئے اور وہ صبر دکھاتے ہوئے اور قربانی کرتے ہوئے اس میں سے گزر جائے۔اس کی انا اس کے راستے میں روک نہ بنے۔اس کا مالی نقصان اس کے راستے میں روک نہ بنے۔اس کی اولا داس کے اطاعت کے جذبے کو کم کرنے والی نہ ہو۔جب یہ معیار حاصل کر لو گے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ انفرادی طور پر تمہارے ایمانوں میں ترقی ہوگی اور جماعتی طور پر بھی مضبوط ہوتے چلے جاؤ گے۔بعض لوگ ذاتی جھگڑوں میں نظام جماعت کے فیصلوں کا پاس نہیں کرتے یا ان فیصلوں پر عملدرآمد کے طریقوں سے اختلاف کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے چلے جاتے ہیں اور اپنا نقصان کر رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ﴿وَاَطِيْعُوا اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوْا إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِيْنَ ﴾ (الانفال: 47) یعنی اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور آپس میں مت جھگڑ اور نہ تم بزدل بن جاؤ گے۔اور تمہارا رعب جاتا رہے گا۔اور صبر سے کام لو یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس میں ہمیں بتا دیا کہ یا درکھو تمہارے ایک ہونے کے لئے تمہیں اکٹھے باندھ کر رکھنے کے لئے بنیادی چیز اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے۔اس لئے اس پر قائم رہو، آپس میں نہ جھگڑو۔اور یہ حکم بھی اللہ تعالیٰ کے بہت سے حکموں میں سے ایک ہے کہ مسلمان آپس میں لڑیں نہیں۔لیکن آجکل دیکھ لیں کیا ہورہا ہے۔ایک فرقے نے دوسرے فرقے کا گریبان پکڑا ہوا ہے۔ایک تنظیم دوسری تنظیم کے خلاف گالم گلوچ کر رہی ہے۔تو پیشگوئی فرما دی تھی کہ اس طرح کرنے سے تم بزدل بن جاؤ گے اور تمہارا رعب جاتا رہے گا۔چنانچہ آجکل دیکھ لیں اس کے عین مطابق نتیجہ نکل رہا ہے۔باوجود مسلمانوں کی اتنی بڑی