خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 607
$2004 607 خطبات مسرور بعض قوانین بنے ہوئے ہیں تو صرف اُن قوانین کی وہاں بھی پابندی ضروری ہے جو حکومت نے اپنا نظام چلانے کے لئے بنائے ہیں۔جو مذہب کا معاملہ ہے وہ دل کا معاملہ ہے۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ قانون آپ کو کہے کہ نماز نہ پڑھو اور آپ نماز ہی پڑھنا چھوڑ دیں۔تو بہر حال جو بھی نظام ہو، دنیاوی حکومتی نظام ہو یا جماعتی نظام یا مذہبی نظام اُن کی اطاعت ضروری ہے۔سوائے جو قانون، جیسا کہ میں نے کہا، براہ راست اللہ اور اس کے رسول کے احکامات سے ٹکراتے ہوں۔تو دینی لحاظ سے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا دوسرے مسلمانوں کو فکر ہو تو ہو احمدی مسلمان کو کوئی فکر نہیں کیونکہ ہم نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اپنا بندھن جوڑ کر اپنے آپ کو اس فکر سے آزاد کر لیا ہے کہ کیا ہم خدا اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق عمل کرتے ہیں۔اور جن امور کی وضاحت ضروری تھی کہ کون کون سے امور شریعت میں وضاحت طلب ہیں ان کی بھی ہمیں حضرت مسیح موعود سے وضاحت مل گئی کیونکہ ہمیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک لائن بتادی، تمام امور کی وضاحت کر دی کہ اس طرح اعمال بجالاؤ تو یہ خدا اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اختلافی معاملات کے حل کے لئے جب لوگ علماء، مفسرین یا فقہاء سے رجوع کرتے رہے تو ہر ایک نے اپنے علم ، عقل اور ذوق کے مطابق ان امور کی تشریح کی۔اپنے اپنے زمانے میں ہر ایک نے اپنے اپنے حلقے میں اپنی طرف سے نیک نیتی سے یہ تمام امور بتائے۔مگر آہستہ آہستہ جن امور میں مفسرین اور فقہاء کا اختلاف تھا ان کے اپنے اپنے گروہ بنتے گئے اور یوں فرقے بندی ہو کر مسلمان آپس میں ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے اور لڑکی جھگڑے بھی ہوتے رہے اور اس تفرقہ بازی نے مسلمانوں کو پھاڑ دیا۔لیکن اب اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پا کر ہمارے لئے صحیح اور غلط کی تعیین کر دی ہے۔پس احمدی کا فرض بنتا ہے کہ وہ اطاعت کے اعلیٰ معیار قائم کریں تبھی وہ