خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 609 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 609

$2004 609 خطبات مسرور تعداد ہونے کے اور بے تحاشہ تیل کا پیسہ ہونے کے رعب کوئی نہیں دوسرے اپنی مرضی کے مطابق ان ممالک کو بھی چلاتے ہیں۔اگر یہ لوگ صبر کرتے اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کے بارے میں بے صبری کا مظاہرہ نہ کرتے اور بدظنی کا مظاہرہ نہ کرتے تو یہ حالت نہ ہوتی۔بہر حال ہم جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم نے اس زمانے کے امام کو مان لیا، ہمارا کام ہے کہ یہ نمونہ اپنے سامنے رکھیں اور جو اللہ اور اس کے رسول نے احکامات دیئے ہیں اور اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جو ہمیں بتایا ہے اس کی مکمل اطاعت کریں، ان کے مطابق عمل کریں۔آپس میں محبت پیار سے رہیں، لڑائی جھگڑے نہ کریں۔جو معاملات بھی اٹھتے ہیں ان پر صبر کریں تو انشاء اللہ تعالیٰ جماعت میں شامل رہنے کی وجہ سے جو رعب خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے وہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ورنہ انفرادی طور پر تو کسی کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے تو اللہ تعالیٰ نے فرما دیا تھا۔یہ وعدہ دیا ہوا ہے کہ نُصِرْتَ بِالرُّعْبِ۔کہ آپ کے رعب کے قائم رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ خود ہی مدد کے سامان پیدا فرما تا رہے گا، خود ہی مدد کرے گا۔پس جو لوگ جماعت میں شامل رہیں گے، جماعت کے نظام کی اطاعت کریں گے ان کا بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے چھٹے رہنے کی وجہ سے انشاء اللہ تعالیٰ رعب قائم رہے گا۔پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ اطاعت میں ہی برکت ہے اور اطاعت میں ہی کامیابی ہے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبادہ بن صامت روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت اس شرط پر کی کہ ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے آسانی میں بھی اور تنگی میں بھی خوشی میں بھی اور رنج میں بھی اور ہم اولوالامر سے نہیں جھگڑیں گے۔اور جہاں کہیں بھی ہم ہوں گے حق پر قائم رہیں گے۔اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔(مسلم كتاب الامارة باب وجوب طاعة الامراء)