خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 54
54 $2004 خطبات مسرور میں حاضر ہوئے اور حضور کی رضاعت کا حوالہ دے کر آزادی کی درخواست کی۔(یعنی یہ حوالہ دیا کہ حضرت حلیمہ اس قبیلے کی ہیں، ان کا دودھ آنحضرت ﷺ نے پیا ہوا ہے )۔آنحضرت نے انصار اور مہاجرین سے مشورہ کے بعد سب کو رہا کر دیا۔( طبقات ابن سعد جلد اول صفحه ١١٥،١١٤ - بيروت ١٩٦٠) - یہ حسن سلوک تھا آپ گا۔ذرا سا بھی تعلق ہو تو ایسے کیا کرتے تھے۔حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص کی خواہش ہو کہ اس کی عمر لمبی ہو اور اسکا رزق بڑھا دیا جائے تو اس کو چاہئے کہ اپنے والدین سے حسن سلوک کرے اور صلہ رحمی کی عادت ڈالے۔(مسند احمد۔جلد ۳ - صفحه نمبر ٢٦٦ ـ مطبوعه بيروت)۔تو یہاں عمر بڑھانے کا اور رزق میں برکت کا ایک اصول بتا دیا گیا ہے کہ اگر کشائش چاہتے ہو، اپنے بچوں کی دور دور کی خوشیاں دیکھنا چاہتے ہوتو والدین سے حسن سلوک کرو۔ان کے تم پر جو احسانات ہیں انہیں یا درکھو۔یاد رکھو کہ بچپن میں تمہیں انہوں نے بڑی تکلیف سے پالا ہے۔اگر تمہاری طرف توجہ نہ دیتے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ تمہاری تو قیمی کی حالت تھی۔کچھ کر نہیں سکتے تھے۔کیونکہ تمہیں کسی نے پوچھنا بھی نہیں تھا۔وہ ماں باپ ہی ہیں جو بچے کو اس طرح پوچھتے ہیں ، درد سے پوچھتے ہیں۔تو جب تم بڑے ہوتے ہو تو تمہاری لکھائی پڑھائی کی کوشش کی طرف توجہ دیتے ہیں۔اپنے پر ہر تکلیف وارد کرتے ہیں اور تمہیں پڑھاتے ہیں۔کئی والدین ایسے ہیں جو فاقے کرتے ہیں اور اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ ہمارے بچے پڑھ جائیں۔تا کہ بڑے ہو کر وہ معاشرے میں عزت و احترام سے رہ سکیں ، ہمارے والا ان کا حال نہ ہو۔لیکن بعض ایسے ناخلف اور بدقسمت بچے ہوتے ہیں کہ جب وہ سب کچھ ماں باپ سے حاصل کر لیتے ہیں، تعلیم حاصل کر کے بڑے افسر لگ جاتے ہیں تو اپنی الگ دنیا بسا لیتے ہیں اور پھر ماں باپ کی کوئی پروا بھی نہیں ہوتی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی مثال دی ہے کہ کسی ہندو نے بڑی تکلیف