خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 55

$2004 55 خطبات مسرور و, برداشت کر کے اپنے لڑکے کو بی اے یا ایم اے کرایا اور اس ڈگری کو حاصل کرنے کے بعد وہ ڈپٹی ہو گیا۔آجکل ڈپٹی ہونا کوئی بڑا اعزاز نہیں سمجھا جاتا لیکن پہلے وقتوں میں ڈپٹی ہونا بھی بڑی بات تھی۔اُس کے باپ کو خیال آیا کہ میرا لڑکا ڈپٹی ہو گیا ہے میں بھی اُس سے مل آؤں۔چنانچہ جس وقت وہ ہندو اپنے بیٹے کو ملنے کے لئے مجلس میں پہنچا تو اس وقت اُس کے پاس وکیل اور بیرسٹر وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے۔یہ بھی اپنی غلیظ دھوتی کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گیا۔باتیں ہوتی رہیں کسی شخص کو اس غلیظ آدمی کا بیٹھنا بر امحسوس ہوا اور اُس نے پوچھا کہ ہماری مجلس میں یہ کون آ بیٹھا ہے۔ڈپٹی صاحب اس کی یہ بات سن کر کچھ جھینپ سے گئے اور شرمندگی سے بچنے کے لئے کہنے لگے یہ ہمارے ٹہلیا ہیں۔باپ اپنے بیٹے کی یہ بات سن کر غصے کے ساتھ جل گیا اور اپنی چادر سنبھالتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔جناب میں ان کا پہلیا نہیں ان کی ماں کا ہلیا ہوں“۔(حضرت مصلح موعوددؓ یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ )۔ساتھ والوں کو جب معلوم ہوا کہ یہ ڈپٹی صاحب کے والد ہیں تو انہوں نے اس کو بہت لعن طعن کی اور کہا کہ اگر آپ ہمیں بتاتے تو ہم اُن کی مناسب تعظیم و تکریم کرتے اور ادب کے ساتھ ان کو بٹھاتے۔بہر حال اس قسم کے نظارے روزانہ دیکھنے میں آتے ہیں کہ لوگ رشتہ داروں کے ساتھ ملنے سے جی چراتے ہیں تا کہ اُن کی اعلیٰ پوزیشن میں کوئی کمی واقع نہ ہو جائے۔گویا ماں باپ کا نام روشن کرنا تو الگ رہا اُن کے نام کو بٹہ لگانے والے بن جاتے ہیں اور سوائے ان لوگوں کے جو اس نقطہ نگاہ سے والدین کی عزت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ والدین کی عزت کرو۔دنیا داروں میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو والدین کی پورے طور پر عزت کرتے ہیں اور زمینداروں اور تعلیم یافتہ طبقہ دونوں میں یہی حالات نظر آتے ہیں۔اسی طرح بعض نو جوان اپنی ماؤں کی خبر گیری ترک کر دیتے ہیں اور جب پوچھا جاتا ہے تو اُن کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اماں جی کی طبیعت تیز ہے اور میری بیوی سے اُن کی بنتی نہیں۔( حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ کوئی بات نہیں ہے کیونکہ ماں کا بھی بہر حال ایک مقام ہے۔پس اس خطرناک