خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 53 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 53

$2004 53 خطبات مسرور۔طرح بدسلوکی کرتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں۔جیسا کہ فرمایا کہ جو شخص اپنے ماں باپ کی عزت نہیں کرتا اور امور معروفہ میں جو خلاف قرآن نہیں ہیں ان کی بات کو نہیں مانتا اور ان کی تعہد خدمت سے لا پروا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔(کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۱۹) پھر ایک روایت ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آنحضرت مہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ لوگوں میں سے میرے حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے؟ آپ نے فرمایا: تیری ماں۔پھر اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ نے فرمایا تیری ماں۔اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ نے فرمایا تیری ماں۔اس نے چوتھی بار پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ نے فرمایا ماں کے بعد تیرا باپ تیرے حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہے۔پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ دار۔(بخاری کتاب الادب باب من احق الناس بحسن الصحبة) ایک روایت ہے حضرت عبد اللہ بن عمر کا قول ہے کہ رب کی رضا باپ کی رضا مندی میں ہے، اور رب کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے۔الادب المفرد للبخارى باب قوله تعالى و وصينا الانسان بوالديه (حسنا حضرت عبداللہ بن عمر و سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیر گناہ ہے۔صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، کوئی شخص اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے سکتا ہے؟۔فرمایا: ہاں وہ دوسرے آدمی کے ماں اور باپ کو گالی دیتا ہے تو اپنے ہی ماں باپ کو گالی دیتا ہے۔( صحیح مسلم کتاب الایمان )۔کیونکہ وہ بھی جواب میں گالی دے گا۔تو اس سے ایک سبق تو یہ ملا کہ گالی نہیں دینی اور دوسرے یہ کہ اپنے ماں باپ کو دعائیں دلوانی ہیں تو اپنے اعلیٰ اخلاق کے نمونے دکھلاؤ۔تمہارے سے واسطہ رکھنے والے یہ کہیں کہ اللہ اس کے والدین کو جزاء دے جس نے اپنے بچوں کی ایسی اعلیٰ تربیت کی ہے۔جنگ حنین میں بنو ہوازن کے قریباً چھ ہزار قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔ان میں حضرت حلیمہ کے قبیلہ والے اور ان کے رشتہ دار بھی تھے جو وفد کی شکل میں حضور ﷺ کی خدمت