خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 449 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 449

449 $2004 خطبات مسرور ویسے ہی نگران نہیں بنتے ) پس نیک عورتیں فرمانبردار اور غیب میں بھی ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں جن کی حفاظت کی اللہ نے تاکید کی ہے۔اور وہ عورتیں جن سے تمہیں باغیانہ رویے کا خوف ہو تو ان کو پہلے تو نصیحت کرو ( اس میں بے حیائی نہیں ہے ایسی باتیں جو ہمسائیوں میں کسی بدنامی کا موجب بن رہی ہوں، بعض ایسی حرکتیں ہوتی ہیں ) تو پہلے ان کو نصیحت کرو، پھر ان کو بستروں میں الگ چھوڑ دو اور پھر اگر ضرورت ہو تو ان کو بدنی سزا بھی دو اور پھر فرمایا پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو پھر ان کے خلاف کوئی حجت یا بہانے تلاش نہ کرو۔یقینا اللہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے، تو فرمایا کہ اس انتہائی باغیانہ رویے سے عورت اپنی اصلاح کرلے تو پھر بلا وجہ اسے سزا دینے کے بہانے تلاش نہ کرو یا د رکھو کہ اگر تم تقویٰ سے خالی ہو کر ایسی حرکتیں کرو گے اور اپنے آپ کو سب کچھ سمجھ رہے ہو گے اور عورت کی تمہارے نزدیک کوئی حیثیت ہی نہیں ہے تو یاد رکھو کہ پھر اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے جو تمہاری ان حرکتوں کی وجہ سے تمہاری پکڑ بھی کر سکتی ہے۔اس لئے جو درجے سزا۔کے مقرر کئے گئے ہیں ان کے مطابق عمل کرو اور جب اصلاح کا کوئی پہلو نہ دیکھو، اگر ایسی عورت کا بدستور وہی رویہ ہے تو پھر سزا کا حکم ہے۔یہ نہیں کہ ذرا ذراسی بات پر اٹھے اور ہاتھ اٹھا لیا یا سوئی اٹھا لی۔اور اتنے ظالم بھی نہ بنو کہ بہانے تلاش کر کے ایک شریف عورت کو اس باغیانہ روش کے زمرے میں لے آؤ اور پھر اسے سزا دینے لگو۔ایسے مرد یا درکھیں کہ خدا کا قائم کردہ نظام بھی یعنی نظام جماعت بھی، اگر نظام کے علم میں یہ بات آجائے تو ایسے لوگوں کو ضرور سزا دیتا ہے۔خدا کے لئے قرآن کو بدنام نہ کریں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ” ہمارے ہادی کامل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاهْلِہ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہو۔بیوی کے ساتھ جس کا عمدہ چال چلن اور معاشرت اچھی نہیں وہ نیک کہاں۔