خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 448
$2004 448 خطبات مسرور اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے اور دوسری طرف عمل کیا ہے، ادنیٰ سے اخلاق کا بھی مظاہرہ نہیں کرتے۔اور کئی ایسی مثالیں آتی ہیں جو پوچھو تو جواب ہوتا ہے کہ ہمیں تو قرآن میں اجازت ہے عورت کو سرزنش کرنے کی۔تو واضح ہو کہ قرآن میں اس طرح کی کوئی ایسی اجازت نہیں ہے۔اس طرح آپ اپنی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے قرآن کو بدنام نہ کریں۔گھریلو زندگی کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ کی گواہی یہ ہے کہ نبی کر یم تمام لوگوں سے زیادہ نرم خو تھے اور سب سے زیادہ کریم ، عام آدمیوں کی طرح بلا تکلف گھر میں رہنے والے، آپ نے کبھی تیوری نہیں چڑھائی، ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے۔نیز آپ فرماتی ہیں کہ اپنی ساری زندگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھایا نہ کبھی خادم کو مارا۔خادم کو بھی کبھی کچھ نہیں کہا۔(شمائل ترمذی باب ما جاء في خلق رسول الله ) صلى الله آج کل دیکھیں ذرا ذراسی بات پر عورت پر ہاتھ اٹھا لیا جاتا ہے حالانکہ جہاں عورت کو سزا کی اجازت ہے وہاں بہت سی شرائط ہیں اپنی مرضی کی اجازت نہیں ہے۔چند شرائط ہیں ان کے ساتھ یہ اجازت ہے۔اور شاید ہی کوئی احمدی عورت اس حد تک ہو کہ جہاں اس سزا کی ضرورت پڑے۔اس لئے بہانے تلاش کرنے کی بجائے مرد اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور عورتوں کے حقوق ادا کریں جیسے کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ الرِّجَالُ قَوْمُوْنَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ َوبِمَا أَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ فَالصَّلِحَتُ قِنِتَتٌ حَفِظْتُ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ۔وَالَّتِي تَخَافُوْنَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا۔إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا﴾ - (النساء) :35) یعنی مرد عورتوں پر نگران ہیں اس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر بخشی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ اپنے اموال ان پر خرچ کرتے ہیں۔( جو نکھٹو گھر بیٹھے رہتے ہیں وہ تو