خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 38 of 1036

خطبات مسرور (جلد 2۔ 2004ء) — Page 38

$2004 38 خطبات مسرور جو شخص خدا کے لئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گا۔لیکن جو شخص مال سے محبت کر کے خدا کی راہ میں وہ خدمت بجا نہیں لاتا جو بجالانی چاہئے تو وہ ضرور اس مال کو کھوئے گا۔یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجالا کر خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کے لئے بلاتا ہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تم سب مجھے چھوڑ دو اور خدمت اور امداد سے پہلوتہی کرو تو وہ ایک قوم پیدا کر دے گا کہ اس کی خدمت بجالائے گی۔تم یقیناً سمجھو کہ یہ کام آسمان سے ہے اور تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کے لئے ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ تم دل میں تکبر کرو اور یہ خیال کرو کہ ہم خدمت مالی یا کسی قسم کی خدمت کرتے ہیں۔میں بار بار تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تمہاری خدمتوں کا ذرہ محتاج نہیں۔ہاں تم پر یہ اس کا فضل ہے کہ تم کو خدمت کا موقعہ دیتا ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ ۴۹۸،۴۹۷) اللہ نہ کرے کہ ہم میں سے ایک بھی ایسی سوچ والا ہو جو سچائی کی روشنی پا کر پھر اندھیروں میں بھٹکنے والا ہو اور گمراہی کی موت مرے اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچائے۔اب گزشتہ سال کے دوران وقف جدید کی مالی قربانیوں کا جائزہ پیش کرتا ہوں مختصر تعارف تو شروع میں وقف جدید کا کروا دیا تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۸۵ء میں اس کو تمام ممالک کے لئے جاری فرمایا اس وقت سے ملکوں کا بھی مقابلہ شروع ہوا ہوا ہے۔اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۱۲۴ ممالک اس تحریک میں شامل ہو چکے ہیں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے۔اور جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ ۳۱ دسمبر ۲۰۰۳ء کو وقف جدید کا چھیالیسواں سال ختم ہوا تھا اور یکم جنوری سے سینتالیسواں سال شروع ہو چکا ہے۔تو گزشتہ سال کے جو اعداد و شمار ہیں ان کے مطابق وقف جدید کی مد میں کل وصولی ۱۸لاکھ ۸۰ ہزار پاؤنڈ ہے اور یہ وصولی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۳لاکھ ۷۰ ہزار پاؤنڈ زیادہ ہے گزشتہ سال کی نسبت۔الحمد للہ۔اور وقف جدید میں شامل ہونے والے مخلصین کی تعداد بھی